Asaduddin Owaisi On Varanasi Boat Iftar Party: ”کون سا قانون ہے جو گنگا میں کھانا کھانے سے روکتا ہے؟“، گنگا میں افطار والے معاملے پر اسدالدین اویسی نے اٹھائے سوال
رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ بھارت میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو گنگا میں کھانا کھانے پر پابندی عائد کرتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ افطار کرنے والے نوجوانوں پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے وہاں گوشت کھایا اور ہڈیاں دریا میں پھینکیں، جبکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
Sambhal Namazi Limit Order: سنبھل: مسلم مسجد میں نماز کیسے پڑھیں… اس حکم پر ہائی کورٹ نے ڈی ایم-ایس پی کو پھٹکارا، اویسی نے فیصلے کا کیا خیرمقدم
الہ آباد ہائی نے سنبھل میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کا حکم منسوخ کر دیا۔ عدالت نے ڈی ایم اور ایس پی کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کریں۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ آپ نے جو بات کہی ہے، وہ ایسی ہے کہ یا تو استعفیٰ دیں یا پھر تبادلہ لے لیں۔
Rajya Sabha Election 2026: بہار میں تیجسوی یادو کی امیدوں پر پھر جائے گا پانی؟ اویسی کی پارٹی بگاڑ سکتی ہے کھیل، اے آئی ایم آئی ایم-آرجے ڈی کے درمیان اہم میٹنگ
بہارمیں راجیہ سبھا کی پانچ سیٹوں پرمقابلہ ہے۔ 6 امیدوار میدان میں ہیں، پانچ این ڈی اے اورایک آرجے ڈی سے۔ این ڈی اے کے 4 امیدواروں کی جیت یقینی ہے۔ پانچویں سیٹ سے متعلق معاملہ پھنسا ہوا ہے۔ آر جے ڈی نے بھی اپنی پوری طاقت لگا دی ہے، اپنی امیدوں کواے آئی ایم آئی ایم پرلگا دیا ہے، جس کے اسمبلی میں پانچ اراکین اسمبلی ہیں۔
No-Confidence Motion: لوک سبھا میں آئینی تنازعہ، اسدالدین اویسی نے جگدمبیکا پال کی صدارت پر اٹھائے سوال
بحث کے آغاز پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مستقبل میں پارلیمانی ریکارڈ دیکھے جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ کرن ریجیجو وہ وزیر تھے جنہوں نے اپوزیشن کو سب سے زیادہ روکا۔
Rajya Sabha Elections 2026: تیجسوی یادو کے پلان پر پھرجائے گا پانی! آرجے ڈی کو جھٹکا دینے والی خبر، اویسی کی پارٹی AIMIM دے سکتی ہے جھٹکا
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ریاستی صدراخترالایمان کا کہنا ہے کہ دہلی سے آنے کے بعد تیجسوی یادو نے بات نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں بات کریں گے۔ اس طرح سے تیجسوی یادو کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔
Owaisi’s reaction to sinking of IRIS Dena: بھارتی آبی حدود کے قریب ایرانی جنگی جہاز کو ڈبونے پر اویسی کا ردعمل، حکومت سے فوری طور پر موقف واضح کرنے کا کیا مطالبہ
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے حکومت سے یہ واضح کرنے کی درخواست کی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے سے پہلے بھارت کو مطلع کیا تھا یا نہیں۔
AIMIM Chief Asaduddin Owaisi On SIR: بی جے پی کا نیا ہتھیار ایس آئی آر، چھین لی جائے گی آپ کی شہریت… اسدالدین اویسی کا مرکز پر بڑا الزام
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی بی جے پی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایس آئی آر (SIR) کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے ہوشیار رہنے اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق یقینی بنانے کی اپیل کی۔
AIMIM Chief Asaduddin Owaisi Statement: ہمیں وفاداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، وندے ماترم تنازعہ پر اسدالدین اویسی کا سخت ردعمل
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے وندے ماترم تنازعہ، پارلیمانی سیاست اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے وفاداری کا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
Asaduddin Owaisi Attacked Modi Government: ’مسلمانوں کے مضبوط ہونے سے ہی بنے گا وِکست بھارت‘، رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کا پارلیمنٹ میں حکومت پر شدید حملہ
حیدرآباد سے رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں عام بجٹ پر بحث کے دوران مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ حکومت 2047 تک ”وِکست بھارت“ بنانے کے دعوے تو کر رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تک ملک کے مسلمان تعلیمی، معاشی اور سماجی طور پر مضبوط نہیں ہوں گے، اس وقت تک ترقی یافتہ بھارت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
West Bengal Assembly Election 2026: بنگال میں اے آئی ایم آئی ایم اور سی پی آئی (ایم) کے ساتھ اتحاد! ہمایوں کبیر نے بتایا اسمبلی انتخابات کے لیے اپنا منصوبہ
مغربی بنگال کی سیاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل نئی سیاسی سرگرمی تیز ہو گئی ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے معطل رکنِ اسمبلی ہمایوں کبیر نے اپنی نئی جماعت ’’جنتا اُنین پارٹی‘‘ تشکیل دے کر ریاست کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔





