Bharat Express DD Free Dish

AIMIM

سال 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین دھماکے میں ہائی کورٹ سے بری کئے گئے ملزمین کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ 12 مسلم مرد 18 سال سے جیل میں ہیں، وہ بھی اس جرم کے لئے، جوانھوں نے کیا ہی نہیں۔ ان کی سنہری زندگی جیل میں ضائع ہوگئی۔

بہارمیں اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدراخترالایمان نے آرجے ڈی سربراہ لالوپرساد یادوکوخط لکھا تھا۔ اس میں اے آئی ایم آئی ایم کو عظیم اتحاد میں شامل کرنے کی گزارش کی تھی۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ 2015 سے بہار کی سیاست میں اے آئی ایم آئی ایم اپنا سرگرم کردارنبھا رہی ہے۔

آپ کو بتادیں کہ 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں وہ ان چار امیدواروں میں سے ایک تھیں جو اسد الدین اویسی کی قیادت والی پارٹی کے ٹکٹ پر جیتی تھیں۔ اپادھیائے کی جیت نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی تھی کیونکہ وہ 'وارڈ 2' سے جیتی تھیں، جس میں 70 فیصد مسلم آبادی تھی۔

عرضی گزار کے وکیل وشنوجین نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم مذہبی بنیاد پربنی پارٹی ہے۔ اسلامی تعلیم کوفروغ دینے جیسی کئی ایسی باتیں کہتی ہے، جس میں واضح طورپرمذہب کے نام پرووٹ مانگا جاتا ہے۔

اویسی کی پارٹی نے پہلے آر جے ڈی سربراہ لالو یادو کو خط لکھ کر اتحاد میں شامل ہونے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن آر جے ڈی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

شیوسینا کے ایم ایل اے سنجے گائیکواڑ ایم ایل اے ہاسٹل کے کینٹین ملازم کے ساتھ مارپیٹ کے بعد خبروں میں ہیں۔ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اب انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم لیڈرامتیازجلیل کو مارنے کی دھمکی دے دی۔

واضح رہے کہ بہار کے سیمانچل علاقے میں اقلیتی ووٹوں کے لیے سخت مقابلہ ہوگا۔ کشن گنج میں 67 فیصد، کٹیہار میں 38 فیصد، ارریہ میں 32 فیصد اور پورنیہ میں 30 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم مالیگاؤں کے رکن اسمبلی مفتی اسماعیل نے آن لائن اذان سے متعلق حکومت پرتنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آن لائن اذان کیسے ہوگا۔ یہ اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ بی جے پی کے ایک لیڈرکریٹ سومیا بلاوجہ لا اینڈ آرڈرکا موضوع اٹھا رہے ہیں۔

آپ کو بتادیں کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی بہار کے سیمانچل میں اچھی موجودگی ہے۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 5 سیٹیں جیتیں لیکن پارٹی کو اس وقت جھٹکا لگا جب اس کے پانچ میں سے چار ایم ایل اے آر جے ڈی میں چلے گئے۔

وارث پٹھان نے کہا کہ کل رات پولیس فورس مدن پورہ کی بڑی مسجد میں آئی، اس دوران انہیں مسجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کو کہا گیا، وہاں افراتفری کا ماحول بن گیا۔ ایسے میں امن و امان کی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی تھی۔