Bharat Express DD Free Dish

AIMIM

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اسرائیل کے ذریعہ فلسطینوں پرحملہ کرنے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے نیتن یاہو کو انسانیت کے خلاف جرائم کا قصوروارقراردیا۔

بہارمیں اسدالدین اویسی کی پارٹی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بھی حصہ لے گی۔ خبروں کے مطابق، اے آئی ایم آئی ایم کانگریس اور آر جے ڈی کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم اور آرجے ڈی کے درمیان سیٹوں کی تقسیم سے متعلق بات چیت بھی چل رہی ہے۔

سیمانچل خطہ، جہاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی توجہ مرکوز ہے، بہار کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مہاگٹھ بندھن کو خدشہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے انتخابی میدان میں اترنے سے مسلم ووٹ تقسیم ہو سکتے ہیں، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

بی جے پی کی کیرالہ یونٹ کے صدر اور سابق مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے ایک بیان میں اسد الدین اویسی اور کانگریس لیڈر ششی تھرور کی حب الوطنی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں رہنما بی جے پی کے نظریاتی مخالف ہیں لیکن جب ملک کو بحران کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک کا ساتھ دیا۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی آپریشن سندور کی تعریف کی ہے۔ حال ہی میں، ایک عوامی پلیٹ فارم سے، اویسی نے ’پاکستان مردہ باد‘ اور ’ہندوستان زندہ باد‘ کے نعرے لگا کر اپنی حب الوطنی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور ہر ہندوستانی کو دہشت گردی کے خلاف حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

اے آئی ایم آئی ایم ، بہار کے سربراہ اختر الایمان نے جمعہ کو کہا کہ اویسی ریاست کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران کشن گنج اور سیمانچل کے دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں کئی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے سے متعلق آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے مسلمانوں سے بڑی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کل کالی پٹی باندھ کرجمعہ کی نماز ادا کریں تاکہ ہم دہشت گردوں کو پیغام دے سکیں کہ ہم ان کے اس بزدلانہ حرکت کی مذمت کرتے ہیں۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ بی جے پی یا کسی دیگرپارٹی کی داخلی میٹنگ نہیں ہے۔ ہم دہشت گردی اور دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ممالک کے خلاف ایک مضبوط اور متحدہ پیغام بھیجنے کے لئے ایک آل پارٹی میٹنگ ہے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ پورے ملک کا نظام اور پورا میڈیا ہی ’’اسلاموفوبیا‘‘ کا شکار ہو گیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی ترجمان وارث پٹھان اورپارٹی کے دیگرکارکنان وقف قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔