Bharat Express DD Free Dish

AIMIM

دہلی اسمبلی انتخابی مہم کا شور پیر کی شام سے تھم گیا ہے اور امیدوار گھر گھر مہم چلا رہے ہیں۔ ووٹنگ بدھ کو ہے لیکن دہلی کی مسلم کمیونٹی، جو ایک ہی سمت میں ووٹ ڈالتی ہے، اس بار مخمصے کا شکار ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی اور اوکھلا سے امیدوار شفاء الرحمٰن نے پیدل یاترا کرکے عوام سے ووٹ مانگا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ پیدل یاترا میں شامل ہوئے۔

شفاء الرحمٰن نے کہا کہ میں جیل سے حراستی پیرول میں آیا ہوں، اپنے کیس سے متعلق بات نہیں کرسکتا، لیکن جس طرح سے جھوٹے اور فرضی معاملات میں میں جیل گیا ہوں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی بی جے پی اور عام آدمی پارٹی پرایک ساتھ حملہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو دبانا چاہتی ہے تو وہیں وہ اروند کیجریوال کو چھوٹا ریچارج کہہ کرمخاطب کرتے ہیں۔

سی اے اے اور این آرسی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کرنے والے شفاء الرحمٰن دہلی فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں جیل میں بند ہیں۔ انہیں عدالت نے کچھ شرائط کے ساتھ انتخابی تشہیر کے لئے حراستی پیرول دیا ہے۔

طاہر حسین کی بیٹی نے جلسے میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کو سپورٹ کریں،  مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے،  آپ کا ایک ووٹ مجھے میرے والد سے جوڑ سکتا ہے،  کاش کوئی میرے سر پر ہاتھ رکھے اور کہے لگے کہ بیٹا تمہارے والد جلد ہی آئیں گے،  دنیا نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات میں اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار امانت اللہ خان نے اسد الدین اویسی پر اپنے خلاف امیدوار کھڑا کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ وہ بی جے پی کی جیت کو یقینی بنانے آئے ہیں۔

مصطفی آباد اسمبلی سیٹ سے اے آئی ایم آئی ایم کے امیدوار اور جیل میں بند دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جیل میں بند لوگوں کے الیکشن لڑنے پر پابندی ہونی چاہئے۔

دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کی درخواست پر سماعت منگل (21 جنوری 2025) تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ طاہر کو اے آئی ایم آئی ایم نے دہلی کی مصطفی آباد اسمبلی سیٹ سے ٹکٹ دیا ہے۔ وہ انتخابی مہم کے لیے باہر آنا چاہتے ہیں۔

دہلی پولیس کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالسٹرچیتن شرما نے عبوری ضمانت کی مخالفت کرتےہ وئے کہا کہ طاہر حسین جیل میں رہتے ہوئے بھی پرچہ نامزدگی داخل کرسکتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں ہیں، جہاں جیل سے پرچہ نامزدگی داخل کیا گیا ہے۔