مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔
بھرت بھوشن تیواری کے انکاونٹر سے متعلق مرکزی وزیرچراغ پاسوان نے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے جمعرات (02 جولائی، 2026) کو دہلی میں ملاقات کی۔ اس حادثہ کے ساتھ ساتھ راجگیرمیں پاسوان سماج کے دو نوجوانوں کے قتل پربھی ان سے تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کی جانکاری چراغ پاسوان نے اپنے ایکس ہینڈل سے دی ہے۔
چراغ پاسوان نے کہا، “آج نئی دہلی میں مرکزی وزیرداخلہ اورکوآپریٹیومنسٹرامت شاہ سے ملاقات کرکے بہارکے راجگیرمیں پاسوان سماج کے دونوجوانوں کے بے رحمانہ قتل اورآرا میں پولیس کے ذریعہ بھرت تیواری کے قتل سے متعلق تفصیلی جانکاری دی۔ ساتھ ہی دونوں معاملوں میں منصفانہ جانچ یقینی بناکرمتاثرہ اہل خانہ کو جلد اورمناسب انصاف دلانے کی گزارش کی۔” دوسری طرف، پٹنہ میں میڈیا سے بات چیت میں بھرت تیواری کے انکاونٹرسے متعلق چراغ پاسوان نے کہا، “ہتھیارکہاں سے آیا، نہیں آیا یہ جانچ کا موضوع ہے، لیکن ان کے اوپر جس طرح سے گولی چلائی گئی ہے، جس طرح سے خود سپردگی کرنے کے بعد بھی مارا گیا ہے، یہ قطعی مناسب نہیں ہے۔”
आज नई दिल्ली में माननीय केंद्रीय गृह एवं सहकारिता मंत्री आदरणीय श्री @AmitShah जी से भेंट कर बिहार के राजगीर में पासवान समाज के दो युवकों की निर्मम हत्या तथा आरा में पुलिस द्वारा भरत तिवारी की हत्या के संबंध में विस्तृत जानकारी दी। साथ ही दोनों मामलों में निष्पक्ष जांच सुनिश्चित… pic.twitter.com/w1O7BkcVJQ
— युवा बिहारी चिराग पासवान (@iChiragPaswan) July 2, 2026
مجھے حیرانی ہوتی ہے: آرجے ڈی
دوسری جانب، بھرت تیواری معاملے پرآرجے ڈی کے ترجمان شکتی یادو نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے حیرانی ہوتی ہے کبھی کبھی، بھرت تیواری کی موت کیوں ہوئی؟ یہ چھوٹ کس نے دی؟ انتظامی لاپرواہی کیسے ہوئی؟ یاد کیجئے، اگرکوئی مجرم فطرت کا ہے، توبھی پولیس کویہ حق نہیں ہے کہ وہ اسے انکاونٹرکردے۔ وہ سرینڈر کرنے گیا تھا، عدالتی عمل ہونا چاہئے تھا… آج بھرت تیواری کی موت پولیس کی گولیوں سے نہیں ہوتی… آج چراغ پاسوان ان کے گھرجا رہے ہیں، جائیے…”
ڈی ایس پی راجیش شرما کی پوسٹنگ پر وزیرنے اٹھایا سوال
وہیں بھرت تیواری کے معاملے میں ڈی ایس پی راجیش شرما کوپھرسے پوسٹنگ دیئے جانے کے سوال پروزیرمدن سہنی نے دربھنگہ میں کہا، “یہ فیصلہ توحکومت کولینا ہے، ہم لوگ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پوسٹنگ مناسب ہے کہ نہیں ہے، لیکن کسی بھی معاملے میں کوئی ملزم ہے، خاص طورپراتنا بڑا حادثہ ہوا… ملک بھرکے لوگ مایوس ہیں، ملک-دنیا سے لوگ یہاں (بلوٹی، بھوجپور) آرہے ہیں… توکہیں نہ کہیں اس بات کا دھیان رکھنا چاہئے کہ جس پراتنا بڑا الزام ہے، اس کی پوسٹنگ نہیں ہونی چاہئے۔”
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

