Urdu Conclave 2026

Bharat Tiwari Encounter

بھرت تیواری کے اہل خانہ نے پولیس پر فرضی انکاؤنٹر کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرت نے پولیس کے سامنے اپنا ہتھیار پھینک کر خودسپردگی اختیار کر لی تھی، اس کے باوجود اسے گولی مار دی گئی۔بھرت تیواری کی والدہ آشا دیوی کے مطابق، 17 جون کی صبح ڈی ایس پی اور متعلقہ تھانے کے انچارج کی قیادت میں پولیس کی ایک ٹیم ان کے گھر پہنچی تھی

انتظامیہ کی خاموشی نے متاثرہ خاندان کے غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔اب تمام نظریں 17 جولائی کو جنتر منتر میں ہونے والے مجوزہ احتجاج پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا اس سے قبل بہار حکومت یا مقامی انتظامیہ معاملے کی شفاف جانچ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔

 مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ بھرت تیواری کے پاس ہتھیار کہاں سے آیا، نہیں آیا، یہ جانچ کا موضوع ہے۔ جس طرح سے خود سپردگی کرنے کے بعد بھی مارا گیا ہے، یہ قطعی طورپرمناسب نہیں ہے۔ اس پورے معاملے پر آرجے ڈی کی طرف سے بھی بیان سامنے آیا ہے۔

بہار کے ضلع بھوجپور میں پولیس نے ایک متنازع انکاؤنٹر میں بھرت بھوشن تیواری کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پولیس اور ریاستی حکومت کے بیانات کو لے کر تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ مقتول کے اہل خانہ اور مقامی افراد کا الزام ہے کہ بھارت بھوشن کو فرضی انکاؤنٹر میں قتل کیا گیا،

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پہلی گولی بائیں ران کے اوپری حصے میں سامنے کی جانب لگی، دوسری گولی بائیں ران کے درمیانی حصے میں اندرونی جانب پیوست ہوئی۔ تیسری گولی دائیں ران کے درمیانی حصے میں لگی، جب کہ چوتھی گولی دائیں ران کے بیرونی حصے سے اندر کی طرف داخل ہوئی۔ پانچویں گولی بائیں ٹانگ کے درمیانی حصے میں پیچھے کی جانب لگی تھی۔

بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے میں شامل پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس پورے واقعے پر کئی سنگین سوالات اٹھائے۔ اس دوران انہوں نے دیگر سیاسی اور عوامی مسائل پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔

بھرت تیواری کی ماں کی درخواست پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ حادثہ کے بعد ماں نے ایس پی کو درخواست لکھی تھی۔ اب جاکر معاملہ درج ہوا ہے۔ ان میں شاہ پور پولیس اسٹیشن کے اس وقت کے سربراہ راجیش کمار مالاکر، سب انسپکٹر انکت آرین، سب انسپکٹر ہرچندرا کمار، اسسٹنٹ سب انسپکٹر راما شنکر یادو اور خاتون کانسٹبل میرا کماری شامل ہیں۔

بھوجپوری اداکار نے خاندان کو مشورہ دیا کہ وہ کسی پڑھے لکھے اور قانون سے واقف شخص کی مدد حاصل کریں۔ انہوں نے کہا:"جو شخص قانون جانتا ہو، اس کی مدد لیں۔ وہ آپ کو احتجاج، دھرنے اور قانونی کارروائی کے بارے میں بہتر طریقے سے سمجھا سکے گا۔ صرف گاؤں کی سطح پر احتجاج سے زیادہ فائدہ نہیں ہوگا،

آرجے ڈی کی سابق رکن اسمبلی اورترجمان ایجیا یادونے نتیش کمار کے ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔ انہوں نے نتیش کمار کے دل اب بدلنے لگا ہے۔ حالانکہ ابھی نتیش کمار این ڈی اے کے ساتھ ہیں، لیکن آرجے ڈی لیڈر کے ذریعہ شیئر کئے گئے ویڈیو سے کئی طرح کے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو خوب شیئر کیا جا رہا ہے۔