بھوجپور کے بھرت بھوشن تیواری انکاونٹرمعاملے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ بھرت تیواری کی ماں آشا دیوی کی درخواست کی بنیاد پرگولی مارنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔ بھوجپورکے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) راج نے منگل (23 جون، 2026) کومیڈیا سے اس کی تصدیق کی ہے۔ حادثہ کے بعد بھرت کی ماں آشا دیوی نے ایس پی کو درخواست دی تھی۔ اب اس کی بنیاد پرجگدیش پورانومنڈل پولیس کے عہدیداراورشاہ پورتھانہ انچارج سمیت دیگرمعاون پولیس اہلکاروں کے خلاف شاہ پورتھانے میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔
اس معاملے میں اب تک پانچ پولیس افسران کومعطل کیا جا چکا ہے۔ ان میں شاہ پورپولیس اسٹیشن کے اس وقت کے سربراہ راجیش کمارمالاکر، سب انسپکٹرانکت آرین، سب انسپکٹرہرچندرا کمار، اسسٹنٹ سب انسپکٹرراماشنکریادواورخاتون کانسٹبل میرا کماری شامل ہیں۔
درخواست میں کیا کچھ کہا گیا؟
بھرت تیواری کی ماں آشا دیوی نے بھوج پورایس پی کودی گئی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ ان کا بیٹا (بھارت بھوشن تیواری) سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے مسائل سے متعلق انتظامیہ سے مسلسل لڑتا رہا ہے۔ واقعہ کے دن کئی پولیس افسران اوراہلکاران کے گھرپہنچے اوران کے بیٹے کوبھی ساتھ جانے کوکہا تھا۔
جگدیش پورپولیس سپرنٹنڈنٹ کے حکم پرگولی ماری گئی: آشا دیوی
آشا دیوی نے درخواست میں کہا ہے کہ پولیس کے سامنے بیٹے نے فیس بک لائیوکے دوران اپنے ہاتھوں میں موجود ہتھیارکوپھینک دیا تھا اورخود کوپولیس کے حوالے کردیا تھا۔ اس کے باوجود پولیس اہلکاروں نے اسے پکڑکرزمین پرگرا دیا اورکئی گولی ماری۔ درخواست میں ماں آشا دیوی نے لکھا ہے کہ ان کے بیٹے کوپانچ گولی ماری گئی ہے۔ درخواست میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ جگدیش پورپولیس سپرنٹنڈنٹ کے حکم پرگولی ماری گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حادثہ کے بعد پولیس انہیں اپنے ساتھ لے گئی اورکئی گھنٹوں تک اہل خانہ کوصحیح جانکاری نہیں دی گئی۔ بعد میں شام کے وقت اطلاع دی گئی کہ بھرت تیواری کی موت ہوچکی ہے۔ اب اسی درخواست کی بنیاد پرمتعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آردرج کرلی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


