Bharat Express DD Free Dish

Bihar Government

بہار کے ضلع ویشالی میں راگھوپور کے قریب کشتی بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ کشتی میں تقریباً 20 نوجوان اور بچے سوار تھے، جو دعوت میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ کو 4، 4 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

پپو یادو نے مرکزکی حکومت اور بہار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹنہ اور دہلی کو زمینی صورتحال کی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے سیلاب کی صورتحال کو ’آبی قیامت‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ متاثرہ علاقوں میں مناسب انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔

این ڈی اے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود مرکزی وزیر نے خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پر تشویش ظاہر کی، کہا - لاپرواہ افسران کے خلاف فوری کارروائی اور ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر سختی سے عمل ضروری۔

چمپارن میں ندیوں کی بڑھتی ہوئی آبی سطح کے حوالے سے وزیر نند کشور رام نے کہا کہ پانی کی سطح بڑھی ہے، لیکن درمیان میں اس میں کمی بھی آئی تھی۔ حکومت پوری صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

حادثے میں بھونیشوری یادو، رام چندریادواورکرشنا ساہ شدید زخمی ہوگئے۔ تینوں کوفوری طورپرصدراسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران بھونیشوری یادواوررام چندریادو نے دم توڑدیا۔ اس طرح حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کرپانچ ہوگئی۔ کرشنا ساہ کا علاج جاری ہے۔ علاج کے دوران دومزید افراد کی موت کی خبرملتے ہی متوفین کے اہل خانہ اوردیگرلوگوں میں غم وغصہ پھیل گیا۔

بہار قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) سے بی جے پی کے رکن دیویش کمار نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ نشست دیپک پرکاش کے لیے خالی کی گئی ہے؟

بہار حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹ/یو جی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف ریاست بھر میں طلبہ کا احتجاج چل رہا تھا اور امتحانی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔

بہار کی سمراٹ چودھری کی  حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ 26 جولائی کی شام 6 بجے تک درج سبھی معاملات میں گرفتاراورزیر حراست افراد کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔

بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ورکنگ صدر تیجسوی یادو نے طلبہ تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے طلبہ کی رہائی اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو سخت وارننگ دی ہے۔

 مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ بھرت تیواری کے پاس ہتھیار کہاں سے آیا، نہیں آیا، یہ جانچ کا موضوع ہے۔ جس طرح سے خود سپردگی کرنے کے بعد بھی مارا گیا ہے، یہ قطعی طورپرمناسب نہیں ہے۔ اس پورے معاملے پر آرجے ڈی کی طرف سے بھی بیان سامنے آیا ہے۔