نئی دہلی: کانگریس کے ترجمان ادت راج نے کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ کے ہندوتو سے متعلق بیان کے تناظر میں ونایک دامودر ساورکر کے نظریے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر کے ’پنیہ بھومی‘ (مقدس سرزمین) کے نظریے کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے ہندوستان صرف جنم بھومی (وطنِ پیدائش) ہے، مقدس سرزمین نہیں۔ اس لیے یہ ہندوتو نہیں بلکہ لوگوں کو تقسیم کرنے والی سوچ ہے۔ ادت راج نے کہا کہ جنگِ آزادی میں 61 ہزار مسلمانوں اور 8 ہزار سکھوں نے قربانیاں دی تھیں، جب کہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کا تعاون نسبتاً کم رہا تھا۔ اس کے باوجود اس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوتو نہیں بلکہ تقسیم کرنے والی سوچ ہے۔ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ آخر ہندو کون ہے؟ ان کے مطابق ہندوستان میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی شناخت صرف ہندو کے طور پر کی جاسکے۔ اگر اس موضوع پر سنجیدگی سے بات کی جائے تو اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہوگا، لیکن لوگوں میں اس پر کھل کر بحث کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
پارلیمنٹ میں بحث نہ ہونے پر بھی اٹھائے سوالات
کانگریس ترجمان نے کہا کہ راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو اس موضوع پر بحث کا چیلنج دیا ہے، لیکن حکومت نے پارلیمنٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اسپیکر مائیک بند کروا دیتے ہیں اور اپوزیشن کو بولنے کا موقع نہیں ملتا، جب کہ اپوزیشن ارکان بھی ہنگامہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بحث نہیں ہو پاتی۔ ادت راج نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہندوتو کی سیاست کرنے والے لوگ خود اپنے ہی جال میں پھنس گئے ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کی آزادی کی جدوجہد سے کوئی خاص تعلق نہیں رہا۔ ایسے میں اگر وہ ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں تو اس سے بڑا تضاد کچھ نہیں ہوسکتا۔ جن کے آباؤ اجداد نے جنگِ آزادی میں حصہ نہیں لیا، وہ آج قوم پرستی کے سب سے بڑے سرٹیفکیٹ تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگِ آزادی میں مسلمانوں اور سکھوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ قیادت چاہے مختلف برادریوں کے لوگوں نے کی ہو، لیکن جن لوگوں نے شہادتیں دیں اور حقیقی قربانیاں پیش کیں، ان کی خدمات کو یاد رکھنا ضروری ہے۔
40 لاکھ نوجوانوں کے دعوے پر بھی دیا جواب
جھارکھنڈ کے وزیر صحت عرفان انصاری نے دعویٰ کیا تھا کہ 40 لاکھ نوجوان راہل گاندھی کے اشارے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ ہندوستان کے حالات بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔ اس دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ادت راج نے کہا کہ 40 لاکھ نوجوان کہاں ہیں، یہ تو عرفان انصاری ہی جانتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 40 لاکھ نہیں بلکہ 4 کروڑ لوگ بھی ہوں، تب بھی ان کی جدوجہد جمہوری اور عوامی راستے پر ہی ہوگی۔ ان کا راستہ نہ بنگلہ دیش کا ہے اور نہ نیپال کا، بلکہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔
ہمارا راستہ عدم تشدد کا ہے: ادت راج
ادت راج نے کہا کہ نیپال میں تشدد اور اشتعال انگیزی کے دوران اپنی ہی تاریخی وراثت کو جلایا گیا اور پارلیمنٹ تک کو آگ کے حوالے کردیا گیا۔ بنگلہ دیش میں بھی جو کچھ ہوا، وہ انتہائی بھیانک تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا راستہ ایسا نہیں بلکہ عدم تشدد کا ہے۔ انہوں نے ملک میں بدامنی کے لیے مرکزی وزیر داخلہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کا کام امن و قانون کی صورت حال برقرار رکھنا ہے، نہ کہ پد یاترا کرنا۔ کئی مرتبہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ حکومت میں نہیں بلکہ اپوزیشن میں بیٹھے ہوں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

