Bharat Express DD Free Dish

RSS-BJP Never Sung Vande Mataram In Their Offices : آر ایس ایس اور بی جے پی نے کبھی ’وندے ماترم‘ نہیں گایا، قومی ترانے سے ہمیشہ گریز کیا: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا الزام

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ دونوں تنظیمیں اگرچہ آج ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کا جشن منارہی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے دفاتر، شاکھاؤں میں اس قومی گیت کو جگہ نہیں دی۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ دونوں تنظیمیں اگرچہ آج ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے دفاتر اور شاکھاؤں میں اس قومی گیت کو جگہ نہیں دی۔ کھڑگے نے کہا کہ ’’جو لوگ آج خود کو قوم پرستی کے خود ساختہ محافظ کہتے ہیں، وہی دراصل ’وندے ماترم‘ اور قومی ترانہ ’جن گن من‘ گانے سے ہمیشہ کتراتے رہے ہیں‘‘۔

جمعہ کو جاری اپنے ایک سرکاری بیان میں کھڑگے نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی نے اپنے اجلاسوں اور شاکھاؤں میں کبھی بھی ’وندے ماترم‘ یا ’جن گن من‘ نہیں گایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’اس کے بجائے وہ ’نمستے سدا وتس لے‘ گاتے ہیں، جو ان کی اپنی تنظیم کی تعریف میں لکھی گئی گیت ہے، نہ کہ قوم کی۔‘‘ کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’1925 میں قیام سے لے کر آج تک آر ایس ایس نے ’وندے ماترم‘ سے گریز کیا ہے۔ ان کے کسی نصاب، لٹریچر یا نظریاتی مواد میں اس گیت کا کوئی ذکر تک نہیں ملتا‘‘۔

کھڑگے کا یہ بیان اس موقع پر سامنے آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو نئی دہلی میں ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے پر ایک تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اسی دوران، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پٹنہ میں منعقد ایک پروگرام میں ملک گیر ایک سالہ مہم کے آغاز کا اعلان کیا۔

کانگریس صدر نے آر ایس ایس پر آزادی کی تحریک میں برطانوی حکومت کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ سب جانتے ہیں کہ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار نے قومی تحریک کے دوران برطانوی حکومت کی حمایت کی، قومی پرچم 52 برسوں تک نہیں لہرایا، بھارتی آئین کو برا بھلا کہا، بابا صاحب امبیڈکر اور مہاتما گاندھی کی علامتی مورتیوں کو جلایا اور سردار پٹیل کے بقول، گاندھی جی کے قتل میں بھی ان کا ہاتھ تھا‘‘۔ کھڑگے نے کہا کہ اس کے برعکس کانگریس پارٹی ہمیشہ ’وندے ماترم‘ اور ’جن گن من‘ پر فخر کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہر کانگریسی اجلاس، چاہے وہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا مکمل اجلاس ہو یا کسی ضلع یا بلاک سطح کی میٹنگ، ان گیتوں کی گونج کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہ دونوں نغمے ہماری قومی وحدت، عقیدت اور فخر کی علامت ہیں‘‘۔

کھڑگے نے اس تاریخی حقیقت پر زور دیا کہ دراصل کانگریس ہی وہ پہلی تنظیم تھی جس نے ’وندے ماترم‘ کو عوامی سطح پر متعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’1896 میں کلکتہ میں منعقدہ کانگریس کے اجلاس میں، اس وقت کے صدر رحمت اللہ سیانی کی قیادت میں، گرو دیو رابندرناتھ ٹیگور نے پہلی بار ’وندے ماترم‘ کو عوام کے سامنے گایا۔ اس لمحے نے آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی راج کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا مقابلہ کرنے کے لیے ’وندے ماترم‘ ایک متحدہ قومی نعرے کے طور پر ابھرا۔ ’’یہ گیت مذہبی، لسانی اور علاقائی تقسیم سے بالاتر ہوکر ہندوستانیوں کو ماں بھارت کے نام پر جوڑنے والا پیغام بن گیا‘‘۔

کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’1905 میں بنگال کی تقسیم کے خلاف تحریک سے لے کر ہمارے انقلابیوں کی آخری سانسوں تک، ’وندے ماترم‘ کی گونج پورے ملک میں سنائی دیتی رہی۔‘‘ یہ نعرہ لالہ لاجپت رائے کے اخبار کا عنوان بھی بنا اور بھکاجی کاما کے بنائے گئے ترنگے پر بھی لکھا گیا۔ برطانوی حکومت اس کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر اسے ممنوع قرار دینے پر مجبور ہوگئی۔ کھڑگے نے پنڈت جواہر لال نہرو کے ایک تاریخی خط کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے 1938 میں لکھا تھا کہ ’’گزشتہ 30 برسوں سے ’وندے ماترم‘ براہ راست ہندوستانی قوم پرستی سے وابستہ ہے۔ ایسے عوامی نغمے کسی حکم سے پیدا نہیں ہوتے، یہ خود عوام کے دلوں سے ابھرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے یاد دلایا کہ ’’1937 میں اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی میں جب پرشوتّم داس ٹنڈن اسپیکر تھے، تب سے ہر اجلاس کا آغاز ’وندے ماترم‘ سے ہونے لگا۔‘‘ بیان کے آخر میں کھڑگے نے کہا کہ ’’وندے ماترم محض ایک گیت نہیں، بلکہ ہندوستان کی روح ہے۔‘‘ قومی گیت ’وندے ماترم‘ ناول نگار بنکم چندر چیٹر جی نے 7 نومبر 1875 کو اپنے معروف ناول ’آنند مٹھ‘ میں تحریر کیا تھا۔ 24 جنوری 1950 کو دستور ساز اسمبلی نے اسے ہندوستان کا قومی گیت قرار دیا، جبکہ 1937 میں کانگریس نے بھی اسے ’’قومی گیتِ ہند‘‘ کے طور پر اپنایا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read