نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) میں ایک بڑے سیاسی بحران کی خبر سامنے آئی ہے جہاں پارٹی کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سات اراکین، جن میں راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، کی مبینہ بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اس پیش رفت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے چلایا جانے والا ’آپریشن لوٹس‘ قرار دیتے ہوئے اسے پنجاب کے ساتھ غداری اور آئندہ انتخابات سے قبل ایک منظم سازش بتایا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی مرکزی ایجنسیوں، خاص طور پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، کا خوف دکھا کر اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ جمہوریت کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہے، جہاں منتخب نمائندوں کو دباؤ، دھمکی اور چھاپوں کے ذریعے اپنے حق میں کیا جا رہا ہے“۔
سنجے سنگھ نے کہا کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی قیادت میں حکومت عوامی فلاح کے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں مفت بجلی، بہتر تعلیمی سہولیات اور صاف پانی کی فراہمی شامل ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”کیا عوام کو سہولتیں دینا جرم ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اس حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے“؟ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نے جن لیڈروں کو عام کارکن سے اٹھا کر پارلیمنٹ تک پہنچایا، وہی آج پارٹی اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔ سنجے سنگھ نے ان اراکین کے اقدام کو ”پنجاب کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف“ قرار دیا اور کہا کہ ریاست کے عوام اس کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔
سنجے سنگھ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”یہ سب کچھ ان کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ ایک اچھی طرح کام کرنے والی حکومت کو گرانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا جا رہا ہے“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں کچھ لیڈروں کے گھروں پر ای ڈی کے چھاپے مارے گئے، جن کا مقصد انہیں خوفزدہ کرنا تھا۔ انہوں نے خاص طور پر اشوک متل کے گھر پر پڑنے والے چھاپے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”تین دن پہلے ای ڈی نے ان کے گھر پر کارروائی کی اور اسی خوف کے ماحول میں انہیں پارٹی سے الگ کیا گیا“۔ سنجے سنگھ کے مطابق، یہ سب ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد پنجاب میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ ”یہ وہی بی جے پی ہے جس نے تین متنازعہ زرعی قوانین منظور کیے تھے، جن کے خلاف پنجاب کے کسانوں نے طویل جدوجہد کی۔ آج اگر وہی لوگ اس پارٹی کے ساتھ جا رہے ہیں تو یہ پنجاب کے عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے“۔
انہوں نے کہا کہ راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک، اشوک متل، سواتی مالیوال اور ہربھجن سنگھ جیسے لیڈروں کو پارٹی نے نہ صرف مواقع فراہم کیے بلکہ عوام نے بھی انہیں بھرپور حمایت دی۔ ”لیکن آج وہی لوگ عوام کے اعتماد کو توڑ رہے ہیں، جو ایک ناقابلِ معافی جرم ہے“۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ عام آدمی پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پنجاب میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ تاہم، بی جے پی کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ادھر، عام آدمی پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مبینہ ’آپریشن لوٹس‘ کے خلاف عوامی سطح پر مہم چلائے گی اور سچ کو سامنے لانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے اس طرح کی سازشوں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




