Bharat Express DD Free Dish

Ashok Mittal

بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین نے راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل سمیت دیگر لیڈروں کا خیرمقدم کیا اور انہیں مٹھائی کھلا کر پارٹی میں شامل کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے دیگر سینئر قائدین بھی موجود تھے اور انہوں نے نئے شامل ہونے والے اراکین کو مبارکباد دی۔

راگھو چڈھا اور اشوک مِتّل سمیت ‘عآپ’ کے دو تہائی ارکانِ پارلیمنٹ نے بغاوت کرتے ہوئے پارٹی قیادت کو بڑا جھٹکا دیا۔ اس پیش رفت سے اروند کیجریوال کی سیاسی گرفت کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے اور راجیہ سبھا کے سیاسی توازن میں بھی تبدیلی آ گئی ہے۔

سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سات اراکین، جن میں راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، کی مبینہ بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اس پیش رفت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے چلایا جانے والا ’آپریشن لوٹس‘ قرار دیتے ہوئے اسے پنجاب کے ساتھ غداری اور آئندہ انتخابات سے قبل ایک منظم سازش بتایا ہے۔

راگھو چڈھا نے پارٹی چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی اپنے بنیادی اصولوں سے بھٹک چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کو انہوں نے 15 برس تک اپنی محنت سے مضبوط کیا، وہ اب اپنی اصل راہ سے ہٹ گئی ہے اور ملکی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔

پارٹی نے کہا کہ کیجریوال نئی دہلی کے حلقے میں اپنے خاندان کے ساتھ رہیں گے، جس کی وہ دہلی اسمبلی میں نمائندگی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے AAP نے مرکزی حکومت سے کیجریوال کو قومی پارٹی کے سربراہ کے طور پر سرکاری رہائش فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔