Bharat Express DD Free Dish

Raghav Chadha

راگھو چڈھا نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن (تھرٹینتھ امینڈمنٹ) ریگولیشنز، 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 30 دن کی مدت والے ریچارج پلان سے یوزر کو ایک سال میں 13 ماہانہ ریچارج کرنے کی ضرورت کم ہو کر 12 ریچارج تک رہ جائے گی۔،

راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت کے بعد ایک بڑی پارلیمانی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ سابق عام آدمی پارٹی لیڈر اور راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا کی عرضی کمیٹی کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری 20 مئی 2026 سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے راگھو چڈھا سے کہا کہ آپ کے سیاسی فیصلے اور بی جے پی میں جانے کی وجہ سے تنقید ہو رہی ہے۔ پہلی نظرمیں اس میں شخصیت کے حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔

راگھو چڈھا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹی سے پہلے بھی کئی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد وابستہ رہے، مگر بعد میں انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ سب لوگ بھی غلط ہو سکتے ہیں؟

اس فیصلے کے بعد ایوانِ بالا میں بی جے پی کی مجموعی طاقت بڑھ کر 113 ہو گئی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کو بڑا دھچکا لگا ہے اور اس کی تعداد گھٹ کر صرف تین رہ گئی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق بی جے پی قیادت کی منظوری کے بعد باغی اراکین نے پہلے راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط پیش کیا، پھر میڈیا کے سامنے آ کر اپنی پوزیشن واضح کی اور اس کے بعد پارٹی صدر سے ملاقات کی۔

بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین نے راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل سمیت دیگر لیڈروں کا خیرمقدم کیا اور انہیں مٹھائی کھلا کر پارٹی میں شامل کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے دیگر سینئر قائدین بھی موجود تھے اور انہوں نے نئے شامل ہونے والے اراکین کو مبارکباد دی۔

سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سات اراکین، جن میں راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، کی مبینہ بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اس پیش رفت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے چلایا جانے والا ’آپریشن لوٹس‘ قرار دیتے ہوئے اسے پنجاب کے ساتھ غداری اور آئندہ انتخابات سے قبل ایک منظم سازش بتایا ہے۔

راگھو چڈھا نے پارٹی چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی اپنے بنیادی اصولوں سے بھٹک چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کو انہوں نے 15 برس تک اپنی محنت سے مضبوط کیا، وہ اب اپنی اصل راہ سے ہٹ گئی ہے اور ملکی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔

راگھو چڈھا کو حال ہی میں راجیہ سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اورایوان میں بولنے سے روک دیا گیا تھا۔ عام آدمی پارٹی نے ان کی جگہ اشوک متل کومقرر کیا ہے۔ آج ہی ای ڈی نے اشوک متل کے جالندھ واقع رہائش گاہ اور نجی یونیورسٹی پر چھاپہ ماری کی ہے۔