Bharat Express DD Free Dish

Raghav Chadha

پرینیتی چوپڑا اور راگھو چڈھا نے شاہی شادی کی تقریب کے لیے مہاراجہ اور دی لیلا پیلس رائل سویٹ بک کیا گیا ہے۔ رائل سویٹ میں سونے جیسے بنے گنبد اور شیشے سےتیار ٹھاکری آرٹ  ہے جو میواڑ کی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تصویر میں راگھو اور پرینیتی دونوں پیسٹل گلابی رنگ کے لباس میں نظرآرہے ہیں۔ پرینیتی نے ہاتھ جوڑیں ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں پر مہندی لگی ہوئی ہے۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے۔

اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اے آئی اے ڈی ایم کے نے کہا کہ وہ آنجہانی چیف منسٹر اور اس کے دیگر قائدین کی توہین برداشت نہیں کرسکتی۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے بارے میں انتخابات کے دوران فیصلہ کیا جائے گا۔

انڈیا اتحا د کی  ریلی میں مہنگائی، بے روزگاری اور بی جے پی کی بدعنوانی کے مسائل کو زوروں سے اٹھایا جائے گا۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ انڈیا اتحاد کا کوئی لیڈر چند میڈیا گروپس کے اینکرز کے شوز میں شرکت نہیں کرے گا۔

اپوزیشن لیڈروں کے مطابق مہاراشٹر، تمل ناڈو اور بہار جیسی ریاستوں کا مسئلہ حل ہو گیا ہے جبکہ دیگر ریاستوں جیسے دہلی، پنجاب اور مغربی بنگال میں چیلنج ہونے کا امکان ہے۔

کپل نے 13 مئی کو منگنی کی تھی۔ ان کی منگنی کا اہتمام نئی دہلی کے کپورتھلہ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد راگھو اور پرینیتی کو ادے پور میں شادی کی جگہوں پر جاتے دیکھا گیا تھا۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈراور راجیہ سبھا کے معطل رکن راگھو چڈھا نے بھی 'انڈیا یا بھارت' نام تنازعہ پر ردعمل ظاہر کیا ہے جو  کے جی 20 عشائیے کے دعوت نامے پر 'پرسیڈنٹ آف بھارت' لکھے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔

Parliament Monsoon Session 2023: عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کے خلاف راجیہ سبھا سے بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ یہ کارروائی فرضی دستخط معاملے میں کی گئی ہے۔

رام داس اٹھاولے نے کہا کہ آج تک کئی ممبران پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ عدالت سے کلیئرنس ملنے کے بعد پارلیمنٹ میں آئے ہیں۔ این سی پی کے لکشدیپ کے ایم پی فیضل پارلیمنٹ میں آئے۔ راہل گاندھی بھی نااہل قرار دیئے گئے اور بعد میں پارلیمنٹ میں آئے

دہلی سروسز بل میں جن 5 ارکان پارلیمنٹ کے فرضی دستخط ہونے کے الزامات لگے ہیں، ان میں سدھانشو ترویدی (بی جے پی)، نرہری امین (بی جے پی)، پھانگنون کونیاک (بی جے پی)، سسمت پاترا (بی جے ڈی) اور کے۔ تھامبی دورائی (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے نام شامل ہیں۔