سری نگر/بڈگام: جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع میں 12 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے پر سیاسی اور عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملزم گرفتار نہیں ہوتا، علاقے کی کوئی بھی لڑکی محفوظ نہیں سمجھی جا سکتی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا کہ متاثرہ بچی محض 11 یا 12 برس کی تھی اور اس کے والد جموں و کشمیر پولیس میں اے ایس آئی کے عہدے پر تعینات ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک پولیس افسر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بڈگام میں ’’ایک خطرناک شخص آزاد گھوم رہا ہے‘‘ جسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔
سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہنچانے کا الزام
التجا مفتی نے دعویٰ کیا کہ جس مقام کے قریب بچی کی لاش ملی، وہاں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس یقیناً تفتیش کر رہی ہے، لیکن معاملے میں بعض خامیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پی ڈی پی رہنما نے کہا کہ متاثرہ خاندان جواب چاہتا ہے اور انصاف کا حق دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ملزم گرفتار نہیں ہوتا، علاقے کی بچیاں خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں رہیں گی۔
پی ڈی پی کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ
واقعے پر پی ڈی پی کے دیگر رہنماؤں نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پارا نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے شفاف اور وقت بند تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف مذمت کا معاملہ نہیں بلکہ پورے سماج کے لیے خود احتسابی کا لمحہ ہے۔ ان کے مطابق کشمیر میں اس نوعیت کے واقعات پہلے شاذ و نادر ہی سامنے آئے ہیں اور ایک معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والا یہ سانحہ سماج کے لیے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز بڈگام میں 12 سالہ بچی کی لاش اس کے گھر سے تقریباً 200 میٹر دور برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 137(1) اور 103 کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
عمرعبداللہ نے بھی واقعے پر افسوس ظاہر کیا
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات پر غور کرنے کا موقع ہے کہ ہمارا سماج کس سمت جا رہا ہے، جہاں کمسن بچے بھی محفوظ نہیں رہے۔ عمر عبداللہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے لیے تمام متعلقہ ایجنسیوں کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



