Chirag Paswan Statement: ’یہ دیکھ کر انتہائی شرمندگی ہوتی ہے‘، چراغ پاسوان نے اپنی ہی اتحادی حکومت پر اٹھائے سوال، کہا- بہار میں کوئی محفوظ نہیں
این ڈی اے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود مرکزی وزیر نے خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پر تشویش ظاہر کی، کہا - لاپرواہ افسران کے خلاف فوری کارروائی اور ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر سختی سے عمل ضروری۔
Tarun Chugh Wrote A Letter To Amit Shah: ’وقت آ گیا ہے!‘ پنجاب میں دہلی کی مداخلت کیوں ضروری؟ ترون چُگ نے امت شاہ کو لکھا خط
AAP کے دھرنے میں گینگسٹر اور پارٹی میں ’جیل بریک‘ کے مجرم کی موجودگی پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ ترون چُگ نے امت شاہ کو خط لکھ کر پنجاب میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ جانیں، انہوں نے دہلی سے کیا مطالبہ کیا؟
CJP’s March in Delhi: سی جے پی کی مجوزہ ریلی پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار، ’احتجاج کرنا لوگوں کا حق، امن وامان برقرار رکھنا حکومت اور پولیس کی ذمہ داری‘
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے یقین ہے کہ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے اس کے برعکس رائے قائم کرنے کی ضرورت ہو۔ بنچ نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد سے ذمہ دارانہ اور پرامن رویے کی توقع کی جاتی ہے۔
IPS officers transferred in UP: یوپی میں بڑا انتظامی پھیر بدل، 9 اضلاع کے IPS افسران کا تبادلہ، سنبھل سے ہٹے ’سپرکاپ‘ کے کے بشنوئی
اتر پردیش میں پولیس محکمہ میں دیر رات بڑا انتظامی پھیر بدل کیا گیا ہے۔ حکومت نے 9 IPS افسران کا تبادلہ کرتے ہوئے کئی اضلاع کی پولیس کمان تبدیل کر دی ہے۔ میرٹھ، جھانسی، سنبھل، بجنور، سلطان پور، گونڈا اور بلرام پور میں نئے پولیس افسران کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
Sambhal 2024 Violence: ’’سنبھل 2024 تشدد پہلے سے طے شدہ سازش تھا، پولیس کی گولی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی‘‘ عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں بڑا دعویٰ
یہ عدالتی کمیشن 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے باہر پیش آئے تشدد کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ تشدد اس وقت ہوا تھا جب عدالت کے حکم پر آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں شامل اس یادگار کا سروے کیا جا رہا تھا۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک جبکہ درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
Jantar Mantar Violence: دہلی پولیس کا جنترمنتر احتجاجی مقامات پر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے 2,873 افراد کی شناخت کا دعویٰ
اس سے قبل دہلی پولیس نے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف قابلِ اعتراض اور توہین آمیز تبصروں پر مشتمل پوسٹ اور ویڈیوز ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ یہ مواد جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج اور 20 جولائی کو ’سنسد چلو‘ مارچ سے منسلک تشدد کے دوران اپ لوڈ کیا گیا تھا۔
Do Not Share Rumours: ’’افواہیں شیئر نہ کریں‘‘ جنتر منتر احتجاج سے متعلق گمراہ کن معلومات پر دہلی پولیس کی سخت کارروائی کی وارننگ
دہلی پولیس نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں ایک شخص خود کو دہلی پولیس کا سب انسپکٹر بتا رہا ہے اور احتجاج میں شامل ہونے کے لیے استعفیٰ دینے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ پولیس کے مطابق دہلی پولیس کے ریکارڈ کی تصدیق سے ویڈیو میں کیے گئے دعوے سے مماثل کوئی سب انسپکٹر نہیں ملا۔ پولیس نے کہا کہ یہ ویڈیو جھوٹی اور گمراہ کن ہے اور بظاہر غلط معلومات پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے۔
CJP Protest March: کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مارچ میں 50 سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی خبر، مظاہرین پر درج کیا جارہا ہے مقدمہ
پولیس نے مختلف مقامات سے متعدد مظاہرین اور تشدد میں ملوث افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس ویڈیو فوٹیج کی مدد سے تشدد میں ملوث دیگر افراد کی بھی شناخت کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں 10 آئی پی ایس اور ڈینیپس افسران شامل ہیں۔ پولیس کے پاس تشدد سے متعلق 40 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔
Delhi Police Appeals For Calm: کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے درمیان دہلی پولیس کی مظاہرین سے امن وامان برقرار رکھنے کی اپیل
پولیس نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی پلیٹ فارم پر افواہوں، غلط معلومات یا غیر مصدقہ مواد پر یقین نہ کریں اور نہ ہی اسے آگے پھیلائیں۔ پوسٹ میں کہا ’’شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں اور امن، ہم آہنگی اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں دہلی پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔‘‘
New Bill on Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ کی توہین پر ہوگی سخت سزا، نیا بل لانے کی تیاری میں ہے مرکزی حکومت، وزیرداخلہ امت شاہ پیش کریں گے ترمیمی بل
مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی شخص ’’وندے ماترم‘‘ کی توہین کا مرتکب پایا گیا تو اسے تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ یہی سزا اس وقت قومی ترانے ’جن گن من‘ کی توہین کے معاملے میں بھی نافذ ہے۔





