Bharat Express DD Free Dish

Women safety

راہل گاندھی نے مزید سوال کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نظام کو درست کرنے سے پہلے مزید کتنی خواتین اور لڑکیوں کو ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت والی دہلی پولیس اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی اتر پردیش پولیس کی جواب دہی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا اس معاملے میں کسی کی جواب دہی طے ہوگی؟ ان کے مطابق، ’’بالکل نہیں، اس جرم پر بھی پردہ ڈال دیا جائے گا۔‘‘

واقعے کے بعد کرائم ٹیم نے ہاسٹل کے کمرے کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ پولیس کی جانب سے موقع سے ملنے والی اشیا اور دیگر شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ واقعے سے قبل طالبہ کی سرگرمیاں کیسی تھیں اور آیا اس نے کسی شخص سے کوئی ایسی بات شیئر کی تھی جس سے اس کی ذہنی یا جذباتی کیفیت کا اندازہ ہوسکے۔

ان تبصروں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تنقید دیکھنے میں آئی۔ متعدد صارفین نے ان بیانات کو خواتین کی توہین، غیر ذمہ دارانہ اور حساس جرائم کے بارے میں نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

التجا مفتی نے کہا ہے کہ اگر ایک پولیس افسر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بڈگام میں ’’ایک خطرناک شخص آزاد گھوم رہا ہے‘‘ جسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

خواتین کی سلامتی، شمولیت اور مساوی مواقع آج کسی بھی شہر کی ترقی اور سماجی ذمہ داری کا سب سے اہم پیمانہ بن چکے ہیں۔ خواتین کے لیے محفوظ ماحول نہ صرف ایک سماجی ضرورت ہے بلکہ آئینی اور انسانی فریضہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں اوتار گروپ کی تازہ رپورٹ نے ملک کے ان شہروں کی درجہ بندی پیش کی ہے جہاں خواتین کے لیے تحفظ، شرکت اور کیریئر میں ترقی کے بہترین مواقع دستیاب ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ نے اناؤ عصمت دری کیس میں سابق بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت (سزا معطلی) دی ہے۔ سینگر کو دہلی کی سی بی آئی عدالت نے نابالغ لڑکی سے عصمت دری کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا تھا اور وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ ہائی کورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ کلدیپ سنگھ سینگر دہلی میں ہی مقیم رہے گا اور اس علاقے کے پانچ کلو میٹر کے دائرے میں داخل نہیں ہوگا جہاں متاثرہ رہتی ہے۔

گریٹر نوئیڈا کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (اے ڈی سی پی) سدھیر کمار نے کہا، "21 اگست کو، ہمیں فورٹس اسپتال سے ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ جھلسی ہوئی ایک خاتون کو داخل کیا گیا ہے اور اسے صفدر جنگ اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔

الکالامبا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین سے متعلق جرائم کے مقدمات فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلائے جائیں۔ متاثرہ خاندانوں کو تحفظ اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ حکومت مجرموں کی حمایت بند کرے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرے۔

14دسمبر کو اروند کیجریوال نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو امن و امان اور خواتین کی حفاظت کے حوالے سے ایک خط بھی لکھا تھا۔ انہوں نے اس پربات چیت کرنے کے لیے ان سے ملاقات کا وقت بھی مانگا تھا۔