Bharat Express DD Free Dish

public outrage

التجا مفتی نے کہا ہے کہ اگر ایک پولیس افسر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بڈگام میں ’’ایک خطرناک شخص آزاد گھوم رہا ہے‘‘ جسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔

اس واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں عوامی حلقوں، سماجی کارکنوں اور دانشوروں کی جانب سے اسے عورت کی عزت اور شخصی آزادی کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ زائرہ وسیم نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا کے ذریعے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ واقعہ ایرانی معاشرے میں بڑھتے ہوئے اخلاقی تضادات اور حکومتی سخت گیری کے درمیان تضاد کو واضح کرتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف اخلاقی پولیس خواتین پر سختی کر رہی ہے اور دوسری جانب حکومتی اہلکاروں کے اہل خانہ آزادانہ طور پر مغربی طرز کی تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔

سینئرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس علی گڑھ نیرج کمار جداؤں نے بتایا: ’’ابھیشیک کے خاندان کا دعویٰ تھا کہ پوجا نے انہیں طویل عرصے تک جنسی طور پر ہراساں کیا اور جب اس نے تمام تعلقات ختم کیے تو پوجا نے قتل کا منصوبہ بنایا۔‘‘ 

شوبیندو ادھیکاری نے الزام لگایا کہ پولیس کارروائی میں 100 سے زائد لوگ زخمی ہوئے جن میں متاثرہ کے والدین بھی شامل ہیں۔ متاثرہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی کی پولیس نے بغیر کسی اشتعال کے انہیں دھکا دیا اور ان کی چوڑیاں توڑ دیں۔

الکالامبا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین سے متعلق جرائم کے مقدمات فاسٹ ٹریک عدالتوں میں چلائے جائیں۔ متاثرہ خاندانوں کو تحفظ اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ حکومت مجرموں کی حمایت بند کرے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرے۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں خواتین کی سلامتی کے مسائل پر بحث جاری ہے اور حکومتیں خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہیں۔ تاہم، ایسے پوسٹرز یہ سوال کھڑا کرتے ہیں کہ کیا سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے ذمہ داری عام شہریوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لکھنؤ کے کسی ہال میں مینگو فیسٹیول جاری ہے۔ الگ الگ قسموں کے رسیلے آم خوبصورتی کے ساتھ سجے ہوئے ہیں۔ اچانک ہال میں آموں کی لوٹ شروع ہوجاتی ہے۔