ممبئی: معروف نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک وائرل ویڈیو کے معاملے میں متاثرہ خاتون سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
وائرل ویڈیو پر شدید ردعمل
یہ ویڈیو پٹنہ میں منعقد ایک سرکاری تقریب کی ہے، جس میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کو ایک خاتون ڈاکٹر کو تقرری نامہ دیتے ہوئے ان کا حجاب ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ جاوید اختر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا: ’’جو لوگ مجھے ذرا بھی جانتے ہیں، وہ یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ میں پردے کے روایتی تصور کے خلاف ہوں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں کسی عورت کے ساتھ اس طرح کے سلوک کو قبول کر لوں۔ نتیش کمار نے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جو کیا، میں اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ انہیں اس خاتون سے غیر مشروط معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
Every one who knows me even in the most cursory manner knows how much I am against the traditional concept of Parda but it doesn’t mean that by any stretch of imagination I can accept what Mr Nitish Kumar has done to a Muslim lady doctor . I condemn it in very strong words . Mr…
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) December 18, 2025
ذاتی نظریات اور عورت کی عزت
جاوید اختر نے واضح کیا کہ پردے سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ کسی خاتون کے ذاتی انتخاب، وقار اور عزت میں مداخلت کی جائے۔ ان کے مطابق کسی بھی عہدے یا اختیار کو عورت کی عزت پامال کرنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
سیاسی حلقوں میں بھی تنقید
اس واقعے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیر اعلیٰ دفتر میں نئے بھرتی شدہ آیوش (AYUSH) ڈاکٹروں کو تقرری نامے دیے جا رہے تھے۔
زائرہ وسیم کا ردعمل
زائرہ وسیم نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا کے ذریعے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے لکھا: ’’عورت کی عزت اور حیا کوئی کھلونا نہیں کہ اسے عوامی اسٹیج پر چھیڑا جائے۔ ایک مسلم عورت کے طور پر کسی دوسری عورت کا نقاب اس طرح اتارا جانا نہایت تکلیف دہ ہے۔ اختیار کسی کو حدیں پار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ نتیش کمار کو اس خاتون سے غیر مشروط معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
A woman’s dignity and modesty are not props to toy with. Least of all on a public stage. As a Muslim woman, watching another woman’s niqab being pulled at so casually, accompanied by that nonchalant smile, was so infuriating.
Power does not grant permission to violate…
— Zaira Wasim (@ZairaWasimmm) December 15, 2025
ملک گیر سطح پر ناراضگی
اس واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں عوامی حلقوں، سماجی کارکنوں اور دانشوروں کی جانب سے اسے عورت کی عزت اور شخصی آزادی کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

