Bharat Express DD Free Dish

Javed Akhtar

بشیر بدر طویل عرصے سے ڈیمنشیا بیماری میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کی یادداشت متاثر ہو چکی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو پہچاننے سے بھی قاصر ہو گئے تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی صحت مسلسل گرتی جا رہی تھی۔

آشا بھوسلے کے مقبول گانوں میں "ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر"، "ان آنکھوں کی مستی"، "دل چیز کیا ہے"، "پیا تو اب تو آجا"، "دنیا میں لوگوں کو" اور "ذرا سا جھوم لوں میں" شامل ہیں۔

محبوبہ مفتی نے اپنی پوسٹ میں جاوید اختر کی اہلیہ شبانہ اعظمی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شبانہ اعظمی نے خود کھل کر بتایا تھا کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے بمبئی جیسے جدید اور جامع شہر میں بھی مکان دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

کانگریس کے ترجمان آلوک شرما کی جانب سے وزیر اعظم مودی کی حکومت کی مختلف اسکیموں پر کی گئی تنقیدی پوسٹ پر مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے ایکس پر طنزیہ ردِعمل دیا، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

اس واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں عوامی حلقوں، سماجی کارکنوں اور دانشوروں کی جانب سے اسے عورت کی عزت اور شخصی آزادی کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ زائرہ وسیم نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا کے ذریعے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ریختہ فاونڈیشن کی جانب سے بانسیرا پارک میں جشن ریختہ کا 10 سالہ جشن شاندارطریقے سے منایا گیا، سنجیوصراف اورہما خلیل کی خدمات کا ایل جی وی کے سکسینہ، گلزاراحمد اورجاوید اخترنے اعتراف کیا۔

اردو زبان نہ کسی ایک مذہب کی ملکیت ہے، نہ کسی خاص عقیدے سے جُڑی ہوئی۔ یہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان ہے جس نے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کے جذبات، خیالات اور خوابوں کو الفاظ دیے ہیں۔

فلم اداکار جتیندر نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہمارے پاس صرف 4-5 گلوکار تھے۔ لیکن اب ملک میں اتنا ٹیلنٹ ہے کہ یہ ایک سلیکٹیو کلچر بن گیا ہے۔ ہر دوسرے دن ایک نیا گلوکار سامنے آتا ہے۔ لتا جی، آشا جی، رفیع صاحب اور کشور صاحب کے جادو کو واپس لانا مشکل ہے۔

جاوید اخترنے حال ہی میں ان دوحادثات پراپنے ردعمل کا اظہارکیا ہے، جن میں عورتوں نے اپنے شوہرکے قتل کی سازش کی تھی۔ ان معاملوں سے متعلق سماج میں جوغصہ نظرآرہا ہے، اس پرجاوید اخترنے کہا کہ اس پران کا ملا جلا ردعمل ہے۔

جاوید اختر سماجی و سیاسی مسائل پر اپنے واضح خیالات اور واضح رائے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی زندگی میں سرگرم شخص کو نہ صرف حمایت بلکہ تنقید کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔جاوید اختر مارچ 2010 سے مارچ 2016 تک راجیہ سبھا کے نامزد رکن رہے ہیں۔