Bharat Express DD Free Dish

Crime against Women

بتایا جا رہا ہے کہ طالبات کے ہاسٹل کے قریب سے طلبہ کا احتجاج شروع ہوا تھا۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پیغام کو بتایا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی بیرونی شخص نے ایک طالبہ کے ساتھ عصمت دری کی ہے۔

پولیس کے مطابق ڈرائیور اور کنڈکٹر نے طالبہ کو نوئیڈا سیکٹر-63 جانے کی بات کہہ کر بس میں بٹھا لیا۔ الزام ہے کہ بس چلنے کے کچھ دیر بعد کنڈکٹر نے طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا حرکت شروع کردی۔ طالبہ کے مطابق اس کے بعد ڈرائیور اور کنڈکٹر نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور مخالفت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

التجا مفتی نے کہا ہے کہ اگر ایک پولیس افسر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بڈگام میں ’’ایک خطرناک شخص آزاد گھوم رہا ہے‘‘ جسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔

انو مینا خودکشی معاملے نے نیا موڑ لے لیا ہے۔ واقعے کے تقریباً 40 دن بعد پولیس نے آخرکار شوہر اور سسرال والوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملزمان کے فرار ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔

ٹویشا شرما کی پراسرار موت کے بعد سے سمرتھ سنگھ مسلسل فرار چل رہا تھا۔ پولیس گزشتہ کئی دنوں سے اس کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی تھی۔ بھوپال پولیس نے اس کی گرفتاری پر 30 ہزار روپے انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سمرتھ 12 مئی کو ٹویشا کی موت کے بعد سے لاپتہ تھا اور اس کے خلاف کئی سنگین الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔

تیجسوی یادو نے مختلف مجرمانہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو براہ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا محکمہ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہونے کے باوجود مجرموں میں قانون کا کوئی خوف نظر نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق بہار میں خواتین کی سلامتی سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، مگر حکومت صرف دعوے کرنے میں مصروف ہے۔

جھارکھنڈ کے ضلع بوکارو میں 18 سالہ لڑکی کے اغوا اور قتل کے معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 10 داروغہ سمیت کل 28 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ یہ قدم عدالت عالیہ کی سختی کے بعد اٹھایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف معاملے کی ازسرنو جانچ ہوئی بلکہ مقتولہ کی لاش بھی برآمد کر لی گئی اور مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

لڑکی نے الزام لگایا کہ ملزم نے اس واقعے کی ویڈیو بنا لی اور اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو ویڈیو وائرل کر دی جائے گی اور اسے جان سے مار دیا جائے گا۔ متاثرہ کے مطابق، اسی ویڈیو کے ذریعے اسے تقریباً 14 ماہ تک مسلسل بلیک میل کیا جاتا رہا اور اس کا استحصال جاری رہا۔

جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ خواتین کی قومی سکریٹری رحمت النساء نے ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی بے حسی، فحاشی اور خواتین کو محض ایک شے کے طور پر پیش کرنے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس کے تدارک کے لیے ذمہ دار میڈیا طرزِ عمل اور اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے۔

جیفری ایپسٹین کی تاریک دنیا کے راز سامنے آنے پر مچے ہنگامے کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑا بیان دیا ہے۔ ایئر فورس ون سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دو ٹوک انداز میں کہا، ’’میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘‘ آئیے جانتے ہیں کہ اس فائل کا نوبیل انعام سے کیا تعلق ہے؟