سپریم کورٹ نے بلڈوزر کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ یہ پابندی یکم اکتوبرتک کے لئے لگائی گئی ہے۔ بلڈوزر کارروائی پر سپریم کورٹ کے حکم کے ایک دن بعد بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی کا ردعمل آیا ہے۔ انہوں نے اس سے متعلق مرکزی حکومت کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ ساتھ ہی مایاوتی نے بلڈوزر کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان سے متعلق تشویش ظاہر کی ہے۔
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرپوسٹ کیا، “بلڈوزرانہدامی قانون کا راج کی علامت نہیں ہونے کے باوجود اس کے استعمال کے بڑھتا ہوا رجحان قابل تشویش ہے۔ ویسے بلڈوزراوردیگر کسی معاملے میں جب عام عوام اس سے متفق نہیں ہوتی ہے توپھرمرکزی حکومت کو آگے آکراس پر پورے ملک کے لئے ایک مساوی گائیڈ لائنس بنانا چاہئے، جو نہیں کئے جا رہے ہیں۔ ورنہ بلڈوزر ایکشن کے معاملے میں عزت مآب سپریم کورٹ کو اس میں مداخلت کرکے مرکزی حکومت کی ذمہ داری کو خود کو نہیں نبھانا پڑتا، جو یہ ضروری تھا۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں آئین اور قانونی راج کے عمل ہونے پر ضرور دھیان دیں۔”
1. बुलडोजर विध्वंस कानून का राज का प्रतीक नहीं होने के बावजूद इसके प्रयोग की बढ़ती प्रवृति चिन्तनीय। वैसे बुलडोजर व अन्य किसी मामले में जब आम जनता उससे सहमत नहीं होती है तो फिर केन्द्र को आगे आकर उस पर पूरे देश के लिए एक-समान गाइडलाइन्स बनाना चाहिए, जो नहीं किए जा रहे हैं। 1/2
— Mayawati (@Mayawati) September 18, 2024
کیجریوال کے استعفیٰ پراٹھایا سوال
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
