Bharat Express DD Free Dish

Mayawati

مایاوتی نے اپنے بیان میں ان ملازمین کا بھی ذکر کیا جو مستقل ملازمت سمیت اپنے مطالبات کی حمایت میں گزشتہ کئی دنوں سے لکھنؤ کے مانور شری کانشی رام جی ایکو گارڈن کے قریب دھرنا دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ملازمت کے تحفظ اور مستقل تقرری کا فائدہ ملنا چاہیے۔ مایاوتی نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ نئی سرکاری بھرتیوں کے ساتھ پہلے سے کام کررہے عارضی ملازمین کے مستقبل پر بھی توجہ دی جائے۔

بسپا سربراہ نے کانشی رام کے مہاپری نروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے کارکنوں سے پوری طاقت کے ساتھ تیاریوں میں جٹنے کی اپیل

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل بی ایس پی میں بڑی سیاسی تبدیلی، مایاوتی نے آکاش آنند کی پارٹی میں واپسی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں دوبارہ قومی کنوینر مقرر کیا، آکاش آنند نے 2 اکتوبر کو مایاوتی سے عوامی طور پر معافی مانگتے ہوئے پارٹی میں دوبارہ کام کرنے کا موقع دینے کی اپیل کی تھی۔

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے لکھنؤ کی اہم میٹنگ میں اپنے بھتیجے ایشان آنند کو پارٹی کا نیا قومی کنوینر مقرر کردیا

مایاوتی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اشوک سدھارتھ نے سنیاس لینے کا فیصلہ بہت دیر سے کیا۔ اگر انہیں اپنے داماد آکاش آنند کے روشن مستقبل یا بہوجن تحریک کے وسیع تر مفاد کی فکر ہوتی تو وہ بغیر تاخیر کے پہلے ہی سنیاس کا اعلان کر دیتے۔ س سے آکاش آنند کی پارٹی اور تحریک کے تئیں سرگرمی کافی حد تک یقینی بنائی جا سکتی تھی۔مایاوتی کا کہنا ہے کہ وقت پر سنیاس کا فیصلہ نہ لینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اشوک سدھارتھ کی نیت میں کھوٹ ہے

بی ایس پی کی آل انڈیا میٹنگ میں مایاوتی نے واضح کیا کہ آکاش آنند کو فی الحال پارٹی میں کوئی بڑی ذمہ داری نہیں دی جائے گی، کیونکہ انہیں ابھی مزید سیاسی پختگی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ آکاش آنند کو پارٹی میں کام کرنے کی اجازت ہے، لیکن جب تک وہ مکمل طور پر میچور اور تجربہ کار نہیں ہوجاتے، اس وقت تک انہیں تنظیم میں کوئی بڑی ذمہ داری دینا مناسب نہیں ہوگا۔

2007 میں دلت-برہمن اتحاد کے ذریعے اتر پردیش میں اقتدار حاصل کرنے والی بہوجن سماج پارٹی کے سامنے 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے پرانے برہمن چہروں کی غیر موجودگی میں سماجی اتحاد کو دوبارہ مضبوط کرنے کا چیلنج ہے۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے نوجوان لیڈر آکاش آنند نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے بڑے لیڈروں  راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کے بارے میں بھی ایک دلچسپ بیان دیا ہے۔

مایاوتی نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو بی ایس پی کی مکمل اکثریت کی حکومت بنانے کی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مایاوتی نے منگل کے روز لکھنو واقع پارٹی کے دفترمیں ریاستی اورضلعی سطح کے عہدیداران کی اہم میٹنگ بلائی ہے، جس میں آئندہ حکمت عملی پربھی تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔