Bharat Express DD Free Dish

Mayawati

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے لکھنؤ کی اہم میٹنگ میں اپنے بھتیجے ایشان آنند کو پارٹی کا نیا قومی کنوینر مقرر کردیا

مایاوتی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اشوک سدھارتھ نے سنیاس لینے کا فیصلہ بہت دیر سے کیا۔ اگر انہیں اپنے داماد آکاش آنند کے روشن مستقبل یا بہوجن تحریک کے وسیع تر مفاد کی فکر ہوتی تو وہ بغیر تاخیر کے پہلے ہی سنیاس کا اعلان کر دیتے۔ س سے آکاش آنند کی پارٹی اور تحریک کے تئیں سرگرمی کافی حد تک یقینی بنائی جا سکتی تھی۔مایاوتی کا کہنا ہے کہ وقت پر سنیاس کا فیصلہ نہ لینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اشوک سدھارتھ کی نیت میں کھوٹ ہے

بی ایس پی کی آل انڈیا میٹنگ میں مایاوتی نے واضح کیا کہ آکاش آنند کو فی الحال پارٹی میں کوئی بڑی ذمہ داری نہیں دی جائے گی، کیونکہ انہیں ابھی مزید سیاسی پختگی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ آکاش آنند کو پارٹی میں کام کرنے کی اجازت ہے، لیکن جب تک وہ مکمل طور پر میچور اور تجربہ کار نہیں ہوجاتے، اس وقت تک انہیں تنظیم میں کوئی بڑی ذمہ داری دینا مناسب نہیں ہوگا۔

2007 میں دلت-برہمن اتحاد کے ذریعے اتر پردیش میں اقتدار حاصل کرنے والی بہوجن سماج پارٹی کے سامنے 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے پرانے برہمن چہروں کی غیر موجودگی میں سماجی اتحاد کو دوبارہ مضبوط کرنے کا چیلنج ہے۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے نوجوان لیڈر آکاش آنند نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے بڑے لیڈروں  راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کے بارے میں بھی ایک دلچسپ بیان دیا ہے۔

مایاوتی نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو بی ایس پی کی مکمل اکثریت کی حکومت بنانے کی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مایاوتی نے منگل کے روز لکھنو واقع پارٹی کے دفترمیں ریاستی اورضلعی سطح کے عہدیداران کی اہم میٹنگ بلائی ہے، جس میں آئندہ حکمت عملی پربھی تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔

عرضی گزار ونیت جندل کے مطابق نیٹ فلکس نے اس فلم کی تشہیر شروع کر دی ہے، جس میں لفظ ’پنڈت‘ کو بدعنوانی اور رشوت خوری سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل برہمن سماج کے لیے توہین آمیز اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دینے والا ہے۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سپریمو مایاوتی کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس اس وقت اچانک متاثر ہو گئی جب کانفرنس ہال میں شارٹ سرکٹ کے باعث دھواں پھیل گیا۔ اس غیر متوقع واقعے کے نتیجے میں ہال میں موجود صحافیوں اور پارٹی کارکنوں میں افرا تفری مچ گئی، جس کے بعد مایاوتی کو بغیر میڈیا کے سوالات کے جواب دیے ہی کانفرنس ادھوری چھوڑ کر باہر جانا پڑا۔

سیاسی گلیاوں میں اسے مایاوتی کا ماسٹراسٹروک بھی کہا جا رہا ہے۔ ایک طرف انہوں نے عوام کے تئیں اپنی حساسیت کا اظہار کیا تو دوسری طرف اپوزیشن کو بولنے کا موقع بھی نہیں چھوڑا۔ بہرحال، 6 دسمبر کو نوئیڈا کی سڑکوں پرنیلے جھنڈے تو لہرائیں گے، لیکن یہ چہرہ غائب ہوگا۔