Bharat Express DD Free Dish

BSP

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے لکھنؤ کی اہم میٹنگ میں اپنے بھتیجے ایشان آنند کو پارٹی کا نیا قومی کنوینر مقرر کردیا

بی ایس پی کی آل انڈیا میٹنگ میں مایاوتی نے واضح کیا کہ آکاش آنند کو فی الحال پارٹی میں کوئی بڑی ذمہ داری نہیں دی جائے گی، کیونکہ انہیں ابھی مزید سیاسی پختگی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ آکاش آنند کو پارٹی میں کام کرنے کی اجازت ہے، لیکن جب تک وہ مکمل طور پر میچور اور تجربہ کار نہیں ہوجاتے، اس وقت تک انہیں تنظیم میں کوئی بڑی ذمہ داری دینا مناسب نہیں ہوگا۔

2007 میں دلت-برہمن اتحاد کے ذریعے اتر پردیش میں اقتدار حاصل کرنے والی بہوجن سماج پارٹی کے سامنے 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے پرانے برہمن چہروں کی غیر موجودگی میں سماجی اتحاد کو دوبارہ مضبوط کرنے کا چیلنج ہے۔

مایاوتی نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو بی ایس پی کی مکمل اکثریت کی حکومت بنانے کی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مرادآباد میں"ٹریڈرس ویلفیئر ڈے" کے موقع پر 365 کروڑ روپئے کے پروجیکٹوں کا افتتاح اورسنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مرادآباد اب ایک عالمی برآمدی مرکزکے طور پر جانا جاتا ہے، نہ کہ کرفیو کے پابند شہر کے طورپر۔ سماج وادی پارٹی، کانگریس اور بی ایس پی پرتنقید کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلان کیا کہ اتر پردیش میں بابرکی نہیں بلکہ رام راج کی حکومت ہوگی۔

مایاوتی نے منگل کے روز لکھنو واقع پارٹی کے دفترمیں ریاستی اورضلعی سطح کے عہدیداران کی اہم میٹنگ بلائی ہے، جس میں آئندہ حکمت عملی پربھی تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔

عرضی گزار ونیت جندل کے مطابق نیٹ فلکس نے اس فلم کی تشہیر شروع کر دی ہے، جس میں لفظ ’پنڈت‘ کو بدعنوانی اور رشوت خوری سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل برہمن سماج کے لیے توہین آمیز اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دینے والا ہے۔

سیاسی گلیاوں میں اسے مایاوتی کا ماسٹراسٹروک بھی کہا جا رہا ہے۔ ایک طرف انہوں نے عوام کے تئیں اپنی حساسیت کا اظہار کیا تو دوسری طرف اپوزیشن کو بولنے کا موقع بھی نہیں چھوڑا۔ بہرحال، 6 دسمبر کو نوئیڈا کی سڑکوں پرنیلے جھنڈے تو لہرائیں گے، لیکن یہ چہرہ غائب ہوگا۔

کربلا جور باغ نئی دہلی میں ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے مولانا کلب جواد سے قریب 30 منٹ ملاقات کی، جس میں اتر پردیش کی موجودہ سیاست اور بطور خاص 2027 میں ہونے والے اسمبلی کے انتخابات پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کو باقاعدہ بی ایس پی کا رکن بنایا گیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ درجنوں لوگوں نے بی ایس پی رکنیت لی اور بی ایس پی اور سابق وزیر اعلی بہن کماری مایاوتی جی پر اعتماد ظاہر کیا۔