Bharat Express DD Free Dish

Jairam Ramesh Takes a Dig at Foreign Policy: خارجہ پالیسی پر جے رام رمیش کا طنز، کہا- چابہار پروجیکٹ کو نیا بتا کر پیش کر رہی ہے بی جے پی حکومت

سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ اکتوبر 2014 میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے اپنی پرانی روایت کے مطابق ڈاکٹر منموہن سنگھ کی چابہار پہل کو نئے انداز میں پیش کیا اور اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کا حصہ بتایا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش۔

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ایک بار پھر خارجہ پالیسی کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودیپر تنقید کی ہے اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی تعریف کی ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں بھارت نے بھارت–افغانستان–ایران تعاون حکمت عملی کے تحت ایران کے چابہار میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنا شروع کیے تھے۔ بعد میں تہران میں منعقدہ 16ویں غیر وابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد منموہن سنگھ نے اس منصوبے کو نئی رفتار دی اور مئی 2013 میں مرکزی کابینہ نے چابہار میں ابتدائی سرمایہ کاری کے لیے 115 ملین ڈالر کی منظوری دی۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا جب بھارت اکتوبر 2008 میں طے پانے والے بھارت-امریکہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اہم اقدامات کر رہا تھا۔

مودی حکومت پر تنقید

کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ اکتوبر 2014 میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے اپنی پرانی روایت کے مطابق ڈاکٹر منموہن سنگھ کی چابہار پہل کو نئے انداز میں پیش کیا اور اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کا حصہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ 2026-27 کے بجٹ میں چابہار کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق یہ سوال اٹھتا ہے کہ بھارت نے اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے یا پھر اس سے متعلق سرمایہ کاری کی ذمہ داریاں فی الحال مکمل ہو چکی ہیں۔

رمیش نے مزید کہا کہ چابہار بندرگاہ چین کے تعاون سے بننے والی پاکستان کی گوادر پورٹ سے تقریباً 170 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ ان کے مطابق یہ بھارت کی وسطی ایشیا سے متعلق سفارتی حکمت عملی کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے، جو تاجکستان کے شہر دوشنبہ کے قریب عینی میں فضائیہ کے اڈے کی بند کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

سونم وانگچک معاملہ

اس سے قبل 14 مارچ کی رات جے رام رمیش نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ چھ ماہ پہلے کانگریس نے سماجی کارکن سونم وانگچک کے خلاف کارروائی کی مذمت کی تھی۔ اب مودی حکومت نے وانگچک کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائی واپس لے کر مکمل یو ٹرن لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف وانگچک اور ان کے خاندان بلکہ لداخ کے عوام سے بھی معافی مانگنی چاہیے اور پرامن و جمہوری احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read