Bharat Express

Attack on devotees at Golden Temple: امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں عقیدت مندوں اور خدمت گاروں پر حملہ، پانچ لوگ زخمی

اس حملے میں پانچ عقیدت مند زخمی ہوئے ہیں۔ حالاں کہ حملہ آور کو اس کے ایک ساتھی سمیت سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پنجاب میں پچھلے کچھ دنوں میں مذہبی مقامات پر حملے کی رپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعے کو پنجاب کے امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کے احاطے کے اندر ہریانہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لوہے کی راڈ سے احاطے میں موجود عقیدت مندوں اور ٹیمپل کے خدمت گاروں پر حملہ کردیا۔ اس حملے میں پانچ عقیدت مند زخمی ہوئے ہیں۔ حالاں کہ حملہ آور کو اس کے ایک ساتھی سمیت سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

کس وقت ہوا حملہ؟

یہ حملہ اس وقت ہوا جب عقیدت مند نئے نانک شاہی سال کا جشن منانے کے لیے گولڈن ٹیمپل میں واقع سری گرو رام داس نواس میں جمع تھے۔ یہ جشن نانک شاہی سال کے آغاز کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ نانک شاہی کیلنڈر کا تعلق سکھ مذہب کے بانی گرونانک سے ہے۔ نانک شاہی کیلنڈر کی شروعات گرونانک کی پیدائش کے سال سے مانا جاتا ہے۔ حملے کے وقت اسی نانک شاہی کلینڈر کے مطابق نانک شاہی سال کے آغاز کا جشن منایا جا رہا تھا۔

گردوارہ پربندھک کمیٹی اور پولیس نے کیا کہا؟

ٹائمز آف انڈیا نے شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سکریٹری پرتاپ سنگھ کے حوالے سے بتایا کہ حملہ کرنے والا شخص رات 12 بجے کے قریب ٹیمپل کے احاطے میں داخل ہوا اور عقیدت مندوں اور ٹیمپل کے خدمت گاروں پر راڈ سے حملہ کیا۔ سنگھ نے بتایا کہ حملے میں تین عقیدت مند اور سیوادار یعنی خدمت گار زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ زخمی ہونے والے عقیدت مندوں میں سے ایک کا تعلق موہالی سے، دوسرے کا بھٹنڈہ سے اور تیسرے کا پٹیالہ سے ہے۔ دریں اثنا کوتوالی پولیس اسٹیشن ہاؤس آفیسر سرمل سنگھ کے مطابق حملہ آور کی شناخت ہریانہ کے زلفان کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس حملے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read