Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ تاہم، خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف فریقوں کے مفادات کے باعث آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

ایران –امریکہ اور اسرائیل سیزفائر کے بعد پہلی کھیپ میں 5 سے 6 جہاز جلد ہی آبنائے ہرمز عبور کر سکتے ہیں۔ جہازوں کے عملے اور ایران کے متعلقہ فریقین کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

شیو سینا (یوبی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ پاکستان کو جنگ بندی کا کریڈٹ مل رہا ہے، یہ ہندوستان اور وزیراعظم نریندرمودی کے لئے بڑی شرمندگی کی بات ہے، ہم ہمیشہ پاکستان کوغریب ملک کہتے ہیں، جب پاکستان کی ثالثی کا معاملہ سامنے آیا تووزیرخارجہ ایس جے شنکرنے کہا تھا کہ یہ ایک 'دلال ملک' ہے اور ہم دلالی نہیں کرتے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی سے مغربی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہونے کی امید ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان نے ایران میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کومشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑنے کے لئے اپنے سفارت خانہ سے رابطہ کریں۔

امریکہ اورایران کے درمیان 28 فروری سے جاری جنگ رک گئی ہے۔ دونوں ملک سیزفائر پر راضی ہوگئے ہیں۔ اس قدم سے پوری دنیا نے راحت کی سانس لی۔ ابنائے ہرمز سے اب جہاز بغیر روک ٹوک کے نکل سکیں گے۔ حالانکہ سیزفائر سے امریکہ میں بیٹھے ایک شخص کو صدمہ لگا ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل آف ایران نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ سیزفائر کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ کونسل نے کہا کہ ایرانی افواج مکمل چوکس ہیں اور دشمن کی کسی بھی غلطی پر پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے عوام، طلبہ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ملک کے اہم اثاثوں کا تحفظ کریں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا ’’یہ ہمارے وسائل اور ہماری ملکیت ہیں‘‘ اور عوام سے ان کی حفاظت کے لیے آگے آنے کی اپیل کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس کے باعث عالمی بازاروں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی۔ بھارت میں سینسیکس اور نفٹی میں تیزی سے گراوٹ آئی اور چند ہی سیکنڈ میں سرمایہ کاروں کے تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے۔

امریکہ-ایران جنگ میں اب کم جونگ اُن کی وائلڈ کارڈ انٹری ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان اور جنوبی کوریا کو تنبیہ دیتے ہوئے ان پر تنقید کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان ممالک نے امریکہ کی مدد نہیں کی۔