Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

نیٹو کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی تھی اور تب سے یہ مغربی ممالک کے اجتماعی دفاع کا اہم ستون رہا ہے۔ اس کے باہمی دفاعی اصول کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے بعد تمام ممالک اس کے دفاع کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان سیزفائر کے لیے جن 10 نکات پر اتفاق ہوا تھا، ان میں باہمی عدم جارحیت کی ضمانت، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا، آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنا، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور امریکی افواج کا خطے سے انخلا شامل ہیں۔

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرجنگ بندی نہ مانی گئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ طاقت سے حملہ کیا جائے گا۔ امریکی فوجی اس کے لئے تیارہیں۔

ریپبلکن کانگریس کے لیڈروں نے اس وقت  نیٹو کی اہمیت پر زور دیا۔ سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین راجر ویکر اور ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے کہا، "ایک مضبوط نیٹو امریکہ کے مفاد میں ہے۔

ایران نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، تہران نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی پر سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فضائی حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، یہ جنگ بندی دو طرفہ ہے اور اس کا مقصد مستقل امن کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو ایک قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے، جس پر مزید بات چیت کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ تاہم، خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف فریقوں کے مفادات کے باعث آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔