Bharat Express DD Free Dish

Constitution is supreme: حقیقی جمہوریت میں پارلیمنٹ نہیں بلکہ آئین سب سے بالاتر، ریاست کے تمام ادارے اسی کے پابند: جسٹس بی آر گوئی

سری لنکا میں ’سجاتا جے وردھنے میموریل اوریشن‘ سے خطاب۔ اپنے تفصیلی خطاب میں جسٹس گوئی نے بھارت اور سری لنکا کے آئینی تجربات، عدلیہ و پارلیمنٹ کے تعلقات، بنیادی حقوق، ایمرجنسی، وفاقیت اور جمہوری اداروں کے اختیارات پر روشنی ڈالی۔

کولمبو: سپریم کورٹ کے جج اور سابق چیف جسٹس بھوشن رام کرشن گوئی نے کہا ہے کہ کسی بھی حقیقی جمہوریت میں پارلیمنٹ مطلق العنان نہیں ہو سکتی بلکہ آئین ہی سب سے بالاتر ہوتا ہے اور ریاست کے تمام ادارے اسی کے پابند ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات سری لنکا کے شہر کولمبو میں منعقدہ ’’سجاتا جے وردھنے میموریل اوریشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے تفصیلی خطاب میں جسٹس گوئی نے بھارت اور سری لنکا کے آئینی تجربات، عدلیہ و پارلیمنٹ کے تعلقات، بنیادی حقوق، ایمرجنسی، وفاقیت اور جمہوری اداروں کے اختیارات پر روشنی ڈالی۔

پارلیمنٹ کی نہیں، آئین کی بالادستی ضروری

جسٹس گوئی نے کہا کہ جمہوری نظام میں اختیارات کی تقسیم بنیادی اصول ہے۔ مقننہ قانون سازی کرتی ہے، ایگزیکٹو حکومت چلاتا ہے اور عدلیہ آئین کی تشریح و نگرانی کرتی ہے۔ ان کے مطابق ان اداروں کے درمیان توازن ہی جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین نے ہر ادارے کے اختیارات اور حدود متعین کر دی ہیں، اس لیے کوئی بھی ادارہ مکمل طور پر بالاتر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی آئینی ڈھانچے میں ’’پارلیمانی بالادستی‘‘ کے بجائے ’’آئینی بالادستی‘‘ کا تصور موجود ہے۔

ایمرجنسی اور عدلیہ کی تاریخی غلطیوں کا ذکر

اپنے خطاب میں جسٹس گوئی نے 1975 کی ایمرجنسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور نے یہ ثابت کیا کہ جب ریاستی ادارے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو جائیں تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے ADM جبَل پور کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے شہری آزادیوں کے تحفظ میں ناکامی دکھائی تھی۔ انہوں نے جسٹس ایچ آر کھنہ کی تاریخی اختلافی رائے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وقت بھی شہری آزادی اور قانون کی حکمرانی کا دفاع کیا جب پورا نظام دباؤ میں تھا۔ بعد میں 44ویں آئینی ترمیم اور پُتّسوامی فیصلے کے ذریعے اس غلطی کی اصلاح کی گئی۔

گورنروں، آرٹیکل 356 اور اختیارات کے غلط استعمال پر تبصرہ

جسٹس گوئی نے آرٹیکل 356 کے غلط استعمال، گورنروں کی جانب سے ریاستی بلوں کو غیر ضروری طور پر روکنے اور آرڈیننس کے بار بار استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے وقتاً فوقتاً واضح کیا ہے کہ سیاسی یا انتظامی اختیارات آئینی حدود سے باہر استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے حالیہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کسی منتخب ریاستی حکومت کے بل کو غیر معینہ مدت تک روک نہیں سکتے اور نہ ہی ایگزیکٹو ادارے قانون سے بالاتر ہو کر کارروائی کر سکتے ہیں۔

تعلیم اور خواتین کے حقوق پر عدلیہ و پارلیمنٹ کا مشترکہ کردار

جسٹس گوئی نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ کے تعلقات ہمیشہ تصادم پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ کئی معاملات میں دونوں نے مل کر آئینی اقدار کو مضبوط کیا۔ انہوں نے حقِ تعلیم اور ورک پلیس پر خواتین کے تحفظ سے متعلق فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی تشریح کے بعد پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے ان حقوق کو آئینی و قانونی تحفظ دیا۔ خطاب کے اختتام پر جسٹس گوئی نے کہا کہ جمہوریت کی اصل روح اختیارات کے توازن، قانون کی حکمرانی اور آئینی حدود کے احترام میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ، عدلیہ اور ایگزیکٹو تینوں کی طاقت آئین سے نکلتی ہے، اس لیے کسی ایک ادارے کی بالادستی کے بجائے آئینی نظام کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read