Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

یہ تمام پیش رفت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے امریکی مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے ایران کو واضح کیا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی عوام نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ کیا سفارت خانہ کو نشانہ بنایا گیا تھا؟ مقامی لوگوں کے مطابق، سفارت خانہ کم ازکم دوسال سے بند ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ میں تین افراد ہلاک اوردو پولیس اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔

آرٹیمس II مشن ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد 2020 کی دہائی کے آخر تک انسانوں کو چاند پر واپس لانا ہے۔ ناسا نے مشن کی کامیابی کو ’مضبوط کندھوں کے ساتھ آگے بڑھیں‘ کی مثال قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ فوجی آپشن اب بھی کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو بری طرح ہلا سکتے ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان سے ممکنہ امریکی کارروائی کے بڑے پیمانے کا اشارہ ملتا ہے۔

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان صدر ٹرمپ نے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اکثر سخت، متنازع اور غیر شائستہ ہوتے ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے Truth Social پر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے جو پوسٹ لکھی، اس پر کئی لوگوں نے تنقید کی ہے۔ اس پوسٹ کے مذہبی انداز پر امریکہ کی ایک اسلامی تنظیم نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ تہران نے امریکہ کے لئے اپنا سفارتی جواب تیارکرلیا ہے اور وہ مناسب وقت پراس کا اعلان کرے گا۔ ایران نے کہا کہ وہ اپنی شرائط پہلے ہی بتا چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نہ صرف داخلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ مطالبات محض سیاسی دباؤ تک محدود رہتے ہیں یا واقعی 25ویں ترمیم کے نفاذ کی جانب کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے۔

جاپان کی طرف سے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔