Bharat Express DD Free Dish

Zaporizhzhia Nuclear Plant Attack: زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ کے ریڈی ایشن لیبارٹری پر ڈرون حملہ، عالمی سطح پر تشویش کی لہر، ممکنہ تابکاری اخراج کا خدشہ

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ کی ریڈی ایشن مانیٹرنگ لیبارٹری پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں تشویش اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔

ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ کی ریڈی ایشن مانیٹرنگ لیبارٹری پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں تشویش اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ روس نے اس واقعے کو ”جوہری دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے یوکرین پر براہ راست الزام عائد کیا ہے، جبکہ عالمی ماہرین نے اس حملے کو نہایت حساس قرار دیتے ہوئے بڑے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ایک خودکش ڈرون نے اتوار کے روز پلانٹ کے بیرونی ریڈی ایشن کنٹرول سسٹم کو نشانہ بنایا، جو فضاء میں تابکاری کی سطح کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ اس لیبارٹری کا مقصد کسی بھی ممکنہ جوہری اخراج کی صورت میں فوری انتباہ فراہم کرنا ہے، تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے اور بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس قسم کی تنصیبات کو نقصان پہنچتا ہے تو کسی بھی جوہری حادثے کی صورت میں بروقت معلومات کا حصول مشکل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نقصان کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ پلانٹ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اہم آلات محفوظ ہیں اور تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے، تاہم روسی حکام نے اس حملے کو عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ دنیا کے بڑے جوہری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور یہاں کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں 1986 کی چرنوبیل آفت جیسی تباہی بھی کم محسوس ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تابکاری خارج ہوتی ہے تو اس کے اثرات چند گھنٹوں میں یورپ کے مختلف ممالک تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملے ”آگ سے کھیلنے“ کے مترادف ہیں اور اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو فوری طور پر ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو عالمی سطح پر بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس حملے کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ روس اس کے جواب میں یوکرین کے توانائی ڈھانچے پر مزید سخت حملے کر سکتا ہے، جس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔ موجودہ صورتحال نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ جوہری خطرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ تنازع ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read