Bharat Express DD Free Dish

Drone Attack

سمندری راستے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان خام تیل، قدرتی وسائل، غذائی اشیا اور دیگر ضروری سامان کی بڑی مقدار بحری جہازوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔ ایسے میں تجارتی جہازوں پر حملے نہ صرف ملاحوں کی جان کے لیے خطرہ بنتے ہیں بلکہ سامان کی ترسیل اور عالمی سپلائی نظام کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ بڑے لاجسٹکس مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حملوں کا یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ دونوں فریق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں تقریباً 500 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ اس کے علاوہ 3 سے 9 ستمبر کے درمیان 43 بچوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے روسی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ایک ہی رات میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون یوکرینی شہروں پر داغے۔ ان کے مطابق یہ حملہ گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیو پر ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس شہری آبادی کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیٹرینک کے مطابق کالج پر یوکرین کی مسلح افواج نے چار فکسڈ وِنگ بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے وی) کے ذریعے حملہ کیا۔ حکام کے مطابق جب حملہ ہوا، اس وقت 14 سے 18 سال کی عمر کے 86 بچے عمارت میں موجود تھے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اب تک کم از کم 24 ریپر ڈرون مار گرائے یا تباہ کر دیے ہیں۔ ان ڈرونز کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کو بھارت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت نے حال ہی میں امریکہ سے 31 ایم کیو-9بی پریڈیٹر ڈرون خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ کی ریڈی ایشن مانیٹرنگ لیبارٹری پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں تشویش اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔

اسرائیل-ایران جنگ کا اثراب دبئی تک پہنچ گیا ہے۔ حال ہی میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پاس ڈرون گرنے سے فیول ٹینک میں دھماکہ ہوا، جس سے آگ لگ گئی۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرایئرپورٹ پرپروازیں عارضی طورپرمعطل کردی گئیں۔

پاکستان نے افغانستان کے کئی شہروں پرفضائی حملے کئے، جس کے بعد طالبان نے اسلام آباد ایئرپورٹ کونشانہ بنایا۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں پاکستانی فوج کوکافی نقصان پہنچا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوا نے واقعے کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ہونے والے اس حملے پر بھارتی حکومت نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔