Bharat Express DD Free Dish

Nisar Ahmad




Bharat Express News Network


ڈرون پاکستان کے جوہری مقام پرپہنچ گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک دھماکے نے لاہور اورکراچی میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں اب تک 25 ڈرون دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ڈرون حملے کے بعد پاکستان کے سیکورٹی سسٹم پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے میں جان گنوانے والے آندھرا پردیش کے نیلاپور کے مدھوسودن راؤ کی اہلیہ کماکشی پرسنا نے ’آپریشن سندور‘ کے لئے وزیراعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے ہمارا بدلہ لے لیا۔

پنجاب کے شاہی امام مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی نے ’آپریشن سندور‘ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب جاگ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرکوئی گستاخی دہرائی گئی توپھرمنہ توڑجواب دیا جائے گا۔

آپریشن سندورکوانجام دینے کے بعد حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کواس آپریشن کے بارے میں جانکاری دی۔

مرکز کے زیر انتظام وادی کشمیر کو بھی الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر وادی کے تمام اضلاع میں کنٹرول روم نمبر جاری کردیئے گئے ہیں۔ یہ نمبر کسی بھی قسم کی پریشانی کی صورت میں لوگوں کی مدد کے لئے دیئے گئے ہیں۔

آپریشن سندور پرکئی پاکستانی اداکار ردعمل ظاہر کررہے ہیں۔ ایئر اسٹرائیک کے بعد پاکستانی فنکار زہراگل رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کررہے ہیں۔ اسی ضمن میں فواد خان نے بھی اپنا ردعمل ظاہرکیا ہے۔

پروفیسر مظہرآصف نے سائیکل چلانے کی عادت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے فٹنیس کے ساتھ ساتھ پائے دار عمل کو مدد اور تعاون کے لیے حاضرین کو ہمت دلائی۔ شرکا نے اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے سائیکل سواری کے پروگرام کے تئیں اپنے عہد کے اظہا رکے ساتھ روز مرہ کی زندگی میں سائیکل سواری کو باقاعدہ عادت میں شامل کرنے کا عہد کیا۔

ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ پاک مقبوضہ کشمیرمیں کامیاب آپریشن سے ایک طرف ہندوستانی کرکٹرفخرمحسوس کررہے ہیں۔ تو دوسری جانب پاکستانی کرکٹرجنگ کوحل کے طورپرنہیں دیکھتے۔

رات میں ایک بج کر 5 منٹ سے لے کر1:30 بجے کے درمیان ہماری تینوں جانباز افواج نےدہشت گردوں کو مٹی میں ملا دیا۔ ہندوستانی فوج نے جس مضبوطی کے ساتھ پاکستان کے خلاف کارروائی کی ہے، وہ برسوں تک اسے یاد رکھے گا۔ ہندوستانی فوج کی اس مہم کو ’’آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا گیا۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم اس موقع پراس بات پربھی زور دینا چاہتے ہیں کہ اس نازک وقت میں ملک کے تمام عوام کو متحد ہوکر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ملک کی سلامتی کے سنگین معاملے کوکسی بھی قسم کی تفریق یا فرقہ وارانہ تناویا کشیدگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنا کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔