Bharat Express DD Free Dish

Nisar Ahmad




Bharat Express News Network


ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ان دنوں زبردست کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ آپریشن سندور کے بعد پاکستان بوکھلایا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حملے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ جموں فرنٹیئربی ایس ایف کے سانبا سیکٹر میں ایک بڑے دہشت گردانہ گروپ کے ذریعہ دراندازی کی کوشش کی گئی، جسے ہندوستانی فوج نے ناکام کردیا۔ اس کارروائی میں 7 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام بھارتی شہریوں کی ہلاکت کی مسلسل خبریں آرہی ہیں۔ بے قصور شہریوں کولاحق خطرات ہماری فوری توجہ چاہتے ہیں۔ ہم ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان خاندانوں کوترجیحی بنیادوں پرتمام ضروری امداد اور تحفظ فراہم کرے۔

وزارت خارجہ کے سکریٹری وکرم مصری نے پاکستان کے ذریعہ تین رافیل کو مار گرانے کے پاکستانی وزیراعظم اور لیڈران کے جھوٹے دعوے پر کہا کہ پاکستان اپنے وجود کے پہلے دن سے ہی جھوٹ بول رہا ہے اورجھوٹ پھیلا رہا ہے۔ جب ہندوستان پاکستان کا بٹوارہ ہوا اس وقت بھی پاکستان نے جموں کشمیرپردھاوا بولنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ سے جھوٹ بولا۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو دیکھتے ہوئے آئی پی ایل چیئرمین ارون سنگھ دھومل نے میچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بعد دھرم شالہ اسٹیڈیم کو بند کردیا گیا ہے۔

جموں میں ڈرون حملے کے بعد سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب، سرحد پار سے کشمیر کے کپواڑہ میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بناکر بھی گولہ باری کی جار ہی ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ’’ہندستان ہمارا وطن ہے، اس کا دفاع ہماری قومی اورآئینی ذمہ داری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ حب الوطنی، امن اوراتحاد کا پیغام دیا ہے اورآج جبکہ ہماری سرحدوں پرخطرہ منڈلا رہا ہے، ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘

ہندوستان کی طرف سے پریس بریفنگ میں کرنل صوفیہ قریشی نے بتایا کہ ہم نے کسی بھی فوجی ٹھکانے کونشانہ نہیں بنایا تھا۔ گزشتہ رات پاکستان نے ہندوستان کے کئی فوجی ٹھکانوں پر ڈرون اور میزائل سے حملہ کرنے کی کوشش کی، جسے ناکام کردیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے ذریعہ چیف جسٹس پرکئے گئے بے حد غیرذمہ دارانہ تبصرہ کی سخت مذمت کی ہے۔ عدالت نے اسے توجہ مبذول کرانے کی کوشش قراردیا تاہم توہین عدالت کی کارروائی سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اتنی نازک نہیں ہیں کہ وہ مضحکہ خیز بیانات سے مرجھا جائیں۔

آپریشن سندورکوانجام دینے کے بعد حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کواس آپریشن کے بارے میں جانکاری دی۔