Habiburrahman
Bharat Express News Network
PM Modi’s Strategic Move: ٹرمپ ٹیرف کے باوجود وزیراعظم مودی کی حکمتِ عملی سے کسانوں کا تحفظ اور مصالحہ جات کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ
بھارت کے مصالحہ جات 200 سے زائد ممالک میں، کسانوں کی آمدنی اور برآمدات میں نمایاں ترقی۔ ٹرمپ کے ٹیرف کے اثرات کم کرنے کے لیے حکومت زرعی تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری، زرعی ویلیو چینز کو مضبوط بنانے، اور برآمدات کے نئے مواقع تلاش کرنے پر کام کر رہی ہے۔
Relief for minority migrants: افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آئے اقلیتی مہاجرین کیلئے بڑی راحت، غیرقانونی قیام اور پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے پر بھی قانونی کارروائی سے مستثنیٰ
وزارت داخلہ نے ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے نیا جرمانہ نظام بھی جاری کیا ہے۔ مستثنیٰ فہرست کے علاوہ دیگر غیر ملکی اگر بغیر درست پاسپورٹ یا ویزا داخل ہوں تو انہیں پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
A resilient economy Growth: بھارت کی معیشت مضبوط، خودمختار ریٹنگ میں بہتری، عالمی غیر یقینی صورتحال اور تجارتی جنگ کے باوجود مثبت معاشی اشاریے
سیاسی استحکام اور مؤثر پالیسی نفاذ بھارت کی خودمختار پروفائل کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بلند شرح نمو، جدید انفراسٹرکچر، مستحکم بیرونی کھاتے اور مضبوط مالیاتی شعبہ بھارت کے کریڈٹ پروفائل کو سہارا دے رہے ہیں۔
PM Modi’s Har Ghar Swadeshi, Ghar-Ghar Swadeshi: ہر گھر سوَدیشی، گھر گھر سوَدیشی: وزیراعظم مودی کا نیا عزم شہریوں کو بااختیار بنائے گا، گیارہ سالہ قیادت میں خود انحصاری کی سمت بھارت کی بڑی پیش رفت
’’کسی قوم کے وقار کا سب سے بڑا پیمانہ اس کی خود انحصاری ہے‘‘۔ 2022 میں ’’ہر گھر ترنگا‘‘ مہم نے عوام میں حب الوطنی کی لہر پیدا کی اور اب ’’ہر گھر سوَدیشی، گھر گھر سوَدیشی‘‘ مہم شہریوں میں سوَدیشی جذبہ پیدا کر کے وکست بھارت کے خواب کو حقیقت بنانے میں مدد دے گی۔
FDI up 15 pc to USD 18.62 bn in Apr-June FY26: اپریل تا جون مالی سال 26 میں ایف ڈی آئی میں 15 فیصد اضافہ، امریکہ سے سرمایہ کاری تین گنا، کل غیر ملکی سرمایہ کاری 18.62 ارب امریکی ڈالر، کرناٹک سب سے آگے
ریاستی سطح پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرناٹک میں 5.69 ارب ڈالر رہی، اس کے بعد مہاراشٹر (5.36 ارب ڈالر)، تمل ناڈو (2.67 ارب ڈالر)، گجرات (1.2 ارب ڈالر)، ہریانہ (1.03 ارب ڈالر)، دہلی (1 ارب ڈالر) اور تلنگانہ (395 ملین ڈالر) میں سرمایہ کاری ہوئی۔
GST Rate Cut: مودی حکومت نے 12 اور 28 فیصد جی ایس ٹی سلیب ختم کر دی، 22 ستمبر سے نئی شرحیں نافذ، روزمرہ استعمال کی 175 اشیاء کے دام کم، اسٹیشنری اور ادویات مکمل طور پر جی ایس ٹی سےمستثنیٰ
ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کیرالا، پنجاب، تمل ناڈو، تلنگانہ، مغربی بنگال اور کرناٹک سمیت آٹھ اپوزیشن حکومتی ریاستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر جی ایس ٹی میں اس کمی سے ان کے ریوینیو میں کمی آتی ہے تو مرکز اس کا ازالہ کرے۔
CJI BR Gavai at Jindal Global University: انسانی وقار آئین کا بنیادی جزو، اس کا تحفظ عدلیہ کی اولین ترجیح، جندل گلوبل یونیورسٹی کے میموریل لیکچر میں چیف جسٹس کا اظہار خیال
سی جے آئی نے وضاحت کی کہ اگرچہ آئین کے حصہ سوم میں انسانی وقار کا لفظ براہِ راست درج نہیں، لیکن عدلیہ نے اپنی تشریحات میں اسے بنیادی حقوق کی بنیاد تسلیم کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 14 میں من مانی پر پابندی، آرٹیکل 15 میں امتیاز کے خلاف تحفظ اور آرٹیکل 16 میں مساوی مواقع کی ضمانت، سب اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر شخص کی عزت نفس محفوظ رہے۔
PM Modi interacts with CEOs at SEMICON India 2025: وزیر اعظم مودی کی عالمی سیمی کنڈکٹر سی ای اوز سے ملاقات، سیمیکون انڈیا 2025 میں بھارت کو عالمی ہب بنانے کے امکانات پر اعتماد کا اظہار
وزیراعظم نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ ’’پہلے تیل بلیک گولڈ تھا، اب چپس ڈیجیٹل ڈائمنڈ ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ 600 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ برسوں میں یہ 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ وزیراعظم مودی نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اس مارکیٹ میں اہم حصہ حاصل کرے گا۔
Delighted to meet German Foreign Minister: وزیراعظم نریندر مودی کی جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات، اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال مکمل، تعاون کے نئے امکانات پر گفتگو
جرمن وزیر خارجہ ویڈفل نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت اور جرمنی نے سلامتی و دفاع، معیشت و تجارت اور ہنرمند افرادی قوت جیسے شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے مثبت پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے یوکرین میں جنگ بندی کی بھارتی اپیل کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدام یورپ کے لیے اہم ہے۔
Union Cabinet approves Rs 1,500 crore: وزیراعظم کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے اہم معدنیات کی ری سائیکلنگ کے لیے 1,500 کروڑ روپے کو دی منظوری، اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مستحکم بنانے کا اقدام
اس اسکیم سے نہ صرف بڑی اور قائم شدہ ری سائیکلنگ کمپنیاں فائدہ اٹھا سکیں گی بلکہ چھوٹے اور نئے ادارے، بشمول اسٹارٹ اپس بھی مستفید ہوں گے۔ کُل فنڈ کا ایک تہائی حصہ خاص طور پر چھوٹے اور نئے یونٹس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔





