Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


بھارت کے مصالحہ جات 200 سے زائد ممالک میں، کسانوں کی آمدنی اور برآمدات میں نمایاں ترقی۔ ٹرمپ کے ٹیرف کے اثرات کم کرنے کے لیے حکومت زرعی تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری، زرعی ویلیو چینز کو مضبوط بنانے، اور برآمدات کے نئے مواقع تلاش کرنے پر کام کر رہی ہے۔

وزارت داخلہ نے ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے نیا جرمانہ نظام بھی جاری کیا ہے۔ مستثنیٰ فہرست کے علاوہ دیگر غیر ملکی اگر بغیر درست پاسپورٹ یا ویزا داخل ہوں تو انہیں پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

سیاسی استحکام اور مؤثر پالیسی نفاذ بھارت کی خودمختار پروفائل کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بلند شرح نمو، جدید انفراسٹرکچر، مستحکم بیرونی کھاتے اور مضبوط مالیاتی شعبہ بھارت کے کریڈٹ پروفائل کو سہارا دے رہے ہیں۔

’’کسی قوم کے وقار کا سب سے بڑا پیمانہ اس کی خود انحصاری ہے‘‘۔ 2022 میں ’’ہر گھر ترنگا‘‘ مہم نے عوام میں حب الوطنی کی لہر پیدا کی اور اب ’’ہر گھر سوَدیشی، گھر گھر سوَدیشی‘‘ مہم شہریوں میں سوَدیشی جذبہ پیدا کر کے وکست بھارت کے خواب کو حقیقت بنانے میں مدد دے گی۔

ریاستی سطح پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرناٹک میں 5.69 ارب ڈالر رہی، اس کے بعد مہاراشٹر (5.36 ارب ڈالر)، تمل ناڈو (2.67 ارب ڈالر)، گجرات (1.2 ارب ڈالر)، ہریانہ (1.03 ارب ڈالر)، دہلی (1 ارب ڈالر) اور تلنگانہ (395 ملین ڈالر) میں سرمایہ کاری ہوئی۔

ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کیرالا، پنجاب، تمل ناڈو، تلنگانہ، مغربی بنگال اور کرناٹک سمیت آٹھ اپوزیشن حکومتی ریاستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر جی ایس ٹی میں اس کمی سے ان کے ریوینیو میں کمی آتی ہے تو مرکز اس کا ازالہ کرے۔

سی جے آئی نے وضاحت کی کہ اگرچہ آئین کے حصہ سوم میں انسانی وقار کا لفظ براہِ راست درج نہیں، لیکن عدلیہ نے اپنی تشریحات میں اسے بنیادی حقوق کی بنیاد تسلیم کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 14 میں من مانی پر پابندی، آرٹیکل 15 میں امتیاز کے خلاف تحفظ اور آرٹیکل 16 میں مساوی مواقع کی ضمانت، سب اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر شخص کی عزت نفس محفوظ رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ ’’پہلے تیل بلیک گولڈ تھا، اب چپس ڈیجیٹل ڈائمنڈ ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ 600 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ برسوں میں یہ 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ وزیراعظم مودی نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اس مارکیٹ میں اہم حصہ حاصل کرے گا۔

جرمن وزیر خارجہ ویڈفل نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت اور جرمنی نے سلامتی و دفاع، معیشت و تجارت اور ہنرمند افرادی قوت جیسے شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے مثبت پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے یوکرین میں جنگ بندی کی بھارتی اپیل کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدام یورپ کے لیے اہم ہے۔

اس اسکیم سے نہ صرف بڑی اور قائم شدہ ری سائیکلنگ کمپنیاں فائدہ اٹھا سکیں گی بلکہ چھوٹے اور نئے ادارے، بشمول اسٹارٹ اپس بھی مستفید ہوں گے۔ کُل فنڈ کا ایک تہائی حصہ خاص طور پر چھوٹے اور نئے یونٹس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔