Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


اونم تہوار اتحاد، امید اور ثقافتی فخر کی علامت، سماجی ہم آہنگی اور قدرت سے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت، یہ موقع ہمارے معاشرے میں ہم آہنگی کے جذبے کو مضبوط کرے اور قدرت سے ہمارے تعلق کو مزید گہرا بنائے:وزیراعظم

قومی ایوارڈ یافتہ اساتذہ سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کے نتیجے میں بھارت کی شاندار معیشت میں ’’پانچ رتن‘‘ کا اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق بھوپیندر پٹیل نے شہری ترقی، زراعت اور پانی کے انتظام سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ ریاستی حکومت ان شعبوں میں جدید اقدامات پر کام کر رہی ہے اور وزیراعظم سے ملاقات مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے کا موقع فراہم کرے گی۔

جی ایس ٹی اصلاحات میں شہریوں کو صحت اور انشورنس سیکٹر میں بڑی راحت دی گئی ہے۔ سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ ذاتی ہیلتھ اور لائف انشورنس پر جی ایس ٹی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ان پر 18 فیصد جی ایس ٹی لاگو تھا۔

وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مرکزی وزیرجیوترآدتیہ سندھیا کا مضمون پڑھیں تاکہ حکومت کے وسیع وژن کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق، سنگاپور بھارت کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس کے ساتھ دوطرفہ تجارت بھارت کی مجموعی تجارت کا تقریباً 2.96 فیصد ہے۔ 2014 سے اب تک سنگاپور سے بھارت میں 175 ارب امریکی ڈالر کی مجموعی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) آ چکی ہے۔

شکایت کے مطابق، سونیا گاندھی جو پیدائش کے لحاظ سے اطالوی شہری تھیں، 30 اپریل 1983 کو قانون شہریت کی دفعہ 5 کے تحت بھارتی شہری بنیں۔ تاہم، ان کا نام 1981-82 میں ہی نئی دہلی پارلیمانی حلقے کی ووٹر فہرست میں شامل تھا، جس سے اس وقت الیکشن کمیشن کو دی گئی دستاویزات پر سوال اٹھتے ہیں۔

کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، تجارت، سرمایہ کاری، فِن ٹیک، صحت، مہارت سازی اور پائیداری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

وزیراعظم وونگ نے کہا کہ سنگاپور بھارت کی اسکل ڈیولپمنٹ کی پہل کی حمایت جاری رکھے گا اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ منصوبوں میں تعاون کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق جنوری سے جولائی 2025 کے درمیان بھارت میں 21,151 میگاواٹ شمسی اور 3,976 میگاواٹ ہوائی توانائی کی پیداواری صلاحیت شامل کی گئی، جس سے مجموعی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت بڑھ کر تقریباً 237.5 گیگاواٹ ہو گئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ اضافہ نمایاں ہے، جب 13,889 میگاواٹ شمسی اور 2,339 میگاواٹ ہوائی توانائی شامل کی گئی تھی۔