بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد لوک گلوکارہ میتھلی ٹھاکر نے انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کے اشارے دیے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے جبل پور میں منعقد 22ویں نرمدا مہوتسو میں شرکت کے دوران انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی پسندیدہ نشست کے طور پر مدھوبنی کا نام لیا۔ حال ہی میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں نیتیانند رائے اور ونود تاوڈے سے ان کی ملاقات کے بعد سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز تھیں۔ جب ان سے ان ملاقاتوں اور انتخاب لڑنے کے امکان پر سوال کیا گیا تو میتھلی نے صاف کہا: ’’اگر ٹکٹ ملتا ہے تو میں اپنے گاؤں کے علاقے مدھوبنی سے ہی لڑنا چاہوں گی۔ وہاں میرا خاص تعلق ہے، وہیں سے سیکھنے کا موقع ملے گا، لوگوں سے ملنا، ان کی باتیں سننا، سب کچھ سمجھنے میں مدد ملے گی۔‘‘
🚨 BIG! After Pawan Singh, now Maithili Thakur meets BJP leaders, fueling speculation about her joining the party 👀
— She said her family had to leave Bihar in 1995 due to Lalu’s ‘Jungle Raj’ pic.twitter.com/kxzDmueen5
— NewsSpectrumAnalyzer (The News Updates 🗞️) (@Bharat_Analyzer) October 6, 2025
کیا میتھلی ٹھاکر قانونی طور پر الیکشن لڑ سکتی ہیں؟
آئین ہند کے آرٹیکل 173 اور جن نمائندگی ایکٹ 1951 کے مطابق کسی بھی امیدوار کی کم از کم عمر اسمبلی انتخاب کے لیے 25 سال ہونا ضروری ہے۔ میتھلی ٹھاکر کی پیدائش 25 جولائی 2000 کو ہوئی یعنی وہ اب 25 برس کی ہو چکی ہیں اور آئینی طور پر انتخاب لڑنے کی اہل ہیں۔
اہلیت کی دیگر شرائط:
امیدوار بھارت کا شہری ہو
کم از کم عمر 25 برس ہو
متعلقہ ریاست کے کسی حلقے کا ووٹر ہو
کسی مفاد والے سرکاری عہدے پر فائز نہ ہو
پارلیمنٹ یا اسمبلی کے قانون کے تحت نااہل قرار نہ دیا گیا ہو
سیاسی مستقبل کے اشارے
میتھلی ٹھاکر کے اس بیان کو ان کے ممکنہ سیاسی کیریئر کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان کی مقبولیت ملک بھر میں ہے اور اگر بی جے پی یا این ڈی اے اتحاد میں انہیں موقع ملا تو وہ ایک نئی شناخت کے ساتھ سامنے آ سکتی ہیں۔ فی الحال ان کا بیان بہار کے انتخابی ماحول میں ایک تازہ بحث کو جنم دے چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

