Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


ریاستی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے متعدد ایجنسیاں متحرک کر دی ہیں۔ این ڈی آر ایف کی 20 ٹیمیں، فوج، بحریہ اور فضائیہ اور انجینئر یونٹس تعینات ہیں۔ 35 سے زائد ہیلی کاپٹرز، 114 کشتیاں اور ایک ریاستی ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔ بارڈر سکیورٹی فورس کی ٹیمیں بھی متاثرہ سرحدی علاقوں میں تعینات ہیں۔

چین میں ایس سی او اجلاس اور عالمی امور پر گفتگو، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، دہشت گردی کی مخالفت اور رابطے کے فروغ پر دیا زور، جاپان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم

’’ہم بھارت کے ساتھ بہت کم کاروبار کرتے ہیں، لیکن وہ ہمارے ساتھ بے پناہ کاروبار کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی سب سے بڑی منڈی سمجھتے ہیں مگر ہم انہیں بہت کم بیچتے ہیں — یہ دہائیوں سے مکمل طور پر یک طرفہ تعلق رہا ہے۔‘‘

مئی 2022 میں برلن میں بھارت اور جرمنی کا چھٹا IGC اجلاس ہوا جس کی مشترکہ صدارت وزیراعظم مودی اور اولف شولز نے کی۔ اس موقع پر صاف توانائی، صحت، ایگروایکولوجی، مہارت کی ترقی، نقل و حرکت اور دیگر شعبوں میں کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

چین کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے وزیراعظم، روس و چین کے صدور سے ملاقات، دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات پر زور۔ چینی صدر، حکومت اور عوام کا کامیاب اجلاس کے انعقاد پر اظہار تشکر۔

اس زلزلے میں اب تک 812 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ امدادی ٹیمیں محدود مواصلات کے باوجود دور دراز علاقوں تک پہنچ کر نقصان کا تخمینہ لگانے اور امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

2006 ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے کیس میں بری ہونے والے کمال احمد انصاری کے اہل خانہ اور قریبی افراد ان کی قبر پر جمع ہوئے اور بمبئی ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ بلند آواز میں پڑھا، جس نے ان کے انتقال کے چار سال بعد ان کا نام تمام الزامات سے بری قرار دیا۔

من کی بات کے 125ویں ایپی سوڈ میں کشمیر کے ڈل جھیل میں کھیلو انڈیا کے تحت پہلی بار منعقدہ واٹر اسپورٹس کا ذکر۔ وزیراعظم نے رشمتا ساہو اور محسن علی کو ان کی کامیابی پر دی مبارکباد

آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کشیدگی نہیں رکھنی چاہئے بلکہ ہاتھ ملا کر آگے بڑھنا چاہئے۔ چین کی ہائی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس میں ہم تعاون کر سکتے ہیں۔ ژانگ شیاو کے مطابق ایس سی او سربراہی اجلاس بھارت اور چین کے تعلقات مزید مضبوط کرنے کا اچھا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔