Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


دہلی اسمبلی میں تاریخی موقع کا جشن، وِٹھل بھائی پٹیل کے اسپیکر بننے کے 100 سال مکمل ہونے پر دہلی اسمبلی میں خصوصی تقریب، مرکزی وزیر داخلہ اور پارلیمانی امور کے وزیر کی شرکت

ای-اسپورٹس اور تعلیمی پلیٹ فارمز کو فروغ، نقصان دہ منی گیمز پر پابندی — صدر کی منظوری کے بعد 2025 کا نیا فریم ورک نافذ

گذشتہ دنوں وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں تین بل پیش کیے جن کے تحت وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزراء کو، اگر وہ سنگین الزامات میں گرفتار ہو کر مسلسل 30 دن تک حراست میں رہیں، تو 31ویں دن خود بخود اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

وزارتِ الیکٹرانکس و آئی ٹی کا اعلان — اسٹارٹ اَپس اور ایم ایس ایم ایز کو عالمی مسابقت کے قابل بنانے پر توجہ، Vervesemi سمیت 72 کمپنیوں کو ای ڈی اے ٹولز تک رسائی

بھارتیہ انترکش اسٹیشن طویل مدتی انسانی موجودگی کے لیے اہم ٹیکنالوجیز کا تجربہ کرنے، مائیکرو گریوٹی میں انسانی صحت کے اثرات جانچنے اور اسپیس لائف سائنسز، میڈیسن، و بین سیاروی تحقیق کا پلیٹ فارم بنے گا۔ اس کے ذریعے بھارت اسپیس ٹورزم میں بھی قدم رکھے گا اور کمرشل اسپیس سیکٹر میں نئی راہیں کھولے گا۔

پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کی انجن سازی کا آغاز، وزیر دفاع نے غیر ملکی کمپنیوں کو بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، اے ایم سی اے پروگرام کے تحت مقامی ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا

دفاعی بجٹ کا 75 فیصد ملکی کمپنیوں کے لیے مختص، ‘میک اِن انڈیا’ کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے پر زور. راج ناتھ سنگھ نے زور دیا کہ بھارت کو محض ٹیکنالوجی کا صارف نہیں بلکہ اس کا خالق بننا ہوگا، تاکہ دفاعی اور صنعتی شعبے میں عالمی مسابقت حاصل کی جا سکے۔

آر بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی کرنسی اثاثوں میں اضافہ جبکہ سونے کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ بھارت کی آئی ایم ایف کے ساتھ ریزرو پوزیشن میں 1.5 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 4.75 ارب ڈالر ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق 87 فیصد آجر مصنوعی ذہانت سے روزگار پر منفی اثرات کی توقع نہیں رکھتے، جبکہ 13 فیصد کا ماننا ہے کہ اے آئی نئی نوکریوں کے مواقع پیدا کرے گی، خصوصاً آئی ٹی، اینالیٹکس اور بزنس ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں۔

مراکش کے ساتھ بھارتی کھاد کمپنیوں کے کنسورشیم نے 25 لاکھ ٹن ڈی اے پی کی سپلائی کا معاہدہ کیا۔ جولائی 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ طویل مدتی معاہدہ ہوا، جس کے تحت 2025-26 سے پانچ سال تک ہر سال 31 لاکھ ٹن ڈی اے پی فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک کی طویل المدتی کھاد ضرورتوں کو پورا کرنے اور بروقت سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔