وزیراعظم نریندرمودی نے اتوار کو اپنے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں کہا کہ بھارت میں زراعت کے شعبے میں شمسی توانائی کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج گھروں کی چھتوں، سرکاری دفاتر اور بڑی عمارتوں پر شمسی پینلز لگے نظر آتے ہیں، اور لوگ اس کی اہمیت سمجھ کر اسے اپنا رہے ہیں۔ مودی نے کہا کہ سورج دیوتا کی عنایت ہمارے ملک پر خاص ہے، اس لیے ہمیں اس توانائی سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ
مودی نے کہا کہ وہی کھیت، وہی کسان، وہی محنت، مگر اب نتائج کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ یہ تبدیلی شمسی پمپ اور شمسی چاول ملز کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں سینکڑوں سولر رائس ملز قائم ہو چکی ہیں جن سے کسانوں کی آمدنی اور ان کے چہروں کی رونق دونوں بڑھی ہیں۔
بہار کی ’سولر دیدی‘ — دیوکی جی کی کہانی
مودی نے بہار کے مظفرپور کے رتن پورہ گاؤں کی دیوکی جی کا ذکر کیا، جنہیں آج لوگ پیار سے ’سولر دیدی‘ کہتے ہیں۔ کم عمری میں شادی، چھوٹا سا کھیت، چار بچوں کی ذمہ داری اور غیر یقینی مستقبل کے باوجود انہوں نے حوصلہ نہیں چھوڑا۔ ایک خود امدادی گروپ سے وابستہ ہو کر سولر پمپ کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور کامیابی سے اسے اپنے گاؤں میں لگوایا۔
40 ایکڑ زمین کی کامیاب سیرابی
مودی نے کہا کہ پہلے صرف چند ایکڑ زمین کی سیرابی ممکن تھی، مگر آج سولر دیدی کے پمپ سے 40 ایکڑ سے زیادہ زمین کو پانی مل رہا ہے۔ گاؤں کے دیگر کسان بھی اس مہم میں شامل ہو گئے ہیں، کھیت ہرے بھرے ہو رہے ہیں اور آمدنی بڑھ رہی ہے۔
خوداعتمادی، ڈیجیٹل ادائیگی اور عزت
وزیراعظم نے بتایا کہ دیوکی جی کی زندگی پہلے چار دیواری تک محدود تھی، مگر آج وہ پورے اعتماد کے ساتھ کام کر رہی ہیں، کسانوں سے یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی وصول کرتی ہیں، اور گاؤں بھر میں عزت و احترام حاصل کر رہی ہیں۔ مودی نے کہا کہ سولر توانائی صرف بجلی کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہر گاؤں میں نئی روشنی اور نئی طاقت لے کر آ رہی ہے۔
پائیدار زراعت کی سمت ایک قدم
وزیراعظم مودی نے کہا کہ سولر پمپ کے ذریعے کسان باقاعدگی سے کھیتوں کی سیرابی کر سکتے ہیں، جس سے فصل کی پیداوار اور معیار دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ یہ پمپ ڈیزل اور بجلی پر انحصار کم کر کے لاگت گھٹاتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


