Bharat Express DD Free Dish

Green Energy

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹیکنالوجی کی مدد سے سرکاری اسکیموں کی رقم براہ راست مستحقین کے بینک کھاتوں تک پہنچانے کا انتظام کیا ہے۔ اس سے بدعنوانی کم کرنے، عوام کی سہولت بڑھانے اور حکومت و شہریوں کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔

اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE) نے اتوار کو کَچھ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر بھج میں گرین انرجی سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) کا افتتاح کیا۔ اس پہل کا مقصد بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے قابل تجدید توانائی شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔ اس مرکز کا افتتاح گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت نے کیا۔

گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل یقینی بنانے کا منصوبہ، 50 GWh بیٹری اسٹوریج اور مضبوط بجلی گرڈ کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے تین اہم منصوبوں کو منظوری دی، ربیع فصلوں کی MSP میں اضافہ، گرین انرجی کوریڈور-3 اور دہلی کے لیے AI پر مبنی انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، مجموعی طور پر 2,79,157 کروڑ روپے کے اخراجات کا منصوبہ۔

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اس میں 1,36,378 کروڑ روپے گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کے لیے اور 50,000 کروڑ روپے 50 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

گلوبل ونڈ انرجی کونسل (GWEC) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک ونڈ انرجی کی تنصیب کے معاملے میں بھارت دنیا بھر میں چوتھے مقام پر تھا۔ حکومت کے مطابق ملک میں قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر ونڈ انرجی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور سب اسٹیشن تیار کر رہی ہے۔

گجرات کی یہ کامیابی صرف ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے عالمی موسمیاتی اہداف اور پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ گرین انرجی اور پائیدار ترقی کی سمت گجرات آج ملک کے لیے ایک مؤثر ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق جند سے چلنے والی ہائیڈروجن ٹرین 3,200 ہارس پاور کے پروپلشن سسٹم سے لیس ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ نہ صرف دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین ہے بلکہ بھارت کی سب سے طویل ہائیڈروجن ٹرین بھی ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک پٹرول میں ایتھانول کی ملاوٹ بڑھا کر خام تیل پر انحصار کم کرنے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور توانائی کی سلامتی کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت بھی ای-20 کے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد 2030 تک ای-30 کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جبکہ متعدد دیگر ممالک بھی آنے والے برسوں میں اپنے ایتھانول بلینڈنگ پروگرام کو مزید وسعت دینے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

سورت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس صدی کے آغاز میں گجرات نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے ایک علیحدہ سرکاری محکمہ قائم کیا تھا۔ اسی وژن کے تحت پاٹن ضلع کے چارنکا گاؤں میں ملک کا پہلا سولر پارک بنایا گیا، جس نے بھارت میں شمسی توانائی کے شعبے کو نئی سمت دی اور مستقبل کی توانائی پالیسیوں کی بنیاد رکھی۔