نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ توانائی کے تحفظ کا مستقبل صاف توانائی میں پوشیدہ ہے اور فوسل فیول پر مسلسل زیادہ انحصار عالمی معیشت میں خلل پیدا کرتا رہے گا۔ وہ بھارت منڈپم میں بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو (بریس) 2026 کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے توانائی کی دستیابی اور اقتصادی استحکام کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا سے لے کر مغربی ایشیا کے بحران تک کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ توانائی کا تحفظ براہ راست اقتصادی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان میں بروقت سرمایہ کاری اور حکومتی اقدامات نے ملک کو بڑے اقتصادی بحرانوں سے بچانے میں مدد کی۔ وزیراعظم مودی نے کہا، ’’اس عالمی بحران نے ہر ملک کو واضح پیغام دیا ہے کہ توانائی کا تحفظ براہ راست اقتصادی تحفظ سے وابستہ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ توانائی کے تحفظ کا مستقبل صاف توانائی میں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فوسل فیول کے ذخائر بعض خطوں میں محدود ہیں، جب کہ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت لامحدود ہے اور ہر خطہ و ملک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
غیر فوسل توانائی کی صلاحیت 50 فیصد سے تجاوز
وزیر اعظم نے ہندوستان کی قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے 2025 میں پیرس معاہدے کے تحت اپنی نصب شدہ بجلی کی پیداواری صلاحیت کا نصف غیر فوسل ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے پورا کر لیا۔ ان کے مطابق، اب ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت میں غیر فوسل ذرائع کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان کی غیر فوسل توانائی کی صلاحیت تقریباً 300 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جب کہ ملک کا ہدف 2030 تک 500 گیگاواٹ صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ 10 سے 11 برسوں کے دوران مزید 500 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔
شمسی توانائی سے گھروں اور کسانوں کو فائدہ
مودی نے گھریلو اور دیہی سطح پر شمسی توانائی کے منصوبوں کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فروری 2024 میں شروع کی گئی ’پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا‘ کے تحت ایک کروڑ گھرانوں کو شمسی توانائی سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، گزشتہ دو برسوں میں 65 لاکھ سے زیادہ گھروں کو اس اسکیم سے جوڑا جا چکا ہے، جس سے ان کے بجلی کے بلوں میں 76 فیصد تک کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’پی ایم کُسُم‘ اسکیم کے تحت 30 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو شمسی توانائی کی تنصیبات سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس اسکیم سے فی کسان سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی بچت کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ 44 ہزار سے زیادہ سرکاری عمارتوں میں نصب شمسی نظام سے سالانہ تقریباً 700 کروڑ روپے کی بچت ہو رہی ہے۔
گرین ہائیڈروجن اور توانائی کی ترسیل پر توجہ
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کا صاف توانائی کا نظام صرف آبی، شمسی، ہوائی اور جوہری توانائی تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملک گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں بھی بڑی پیش رفت کے لیے کام کر رہا ہے۔ قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت اس دہائی کے اختتام تک 50 لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی کی مؤثر ترسیل کے لیے ملک گیر بجلی گرڈ اور مخصوص گرین انرجی کوریڈورز کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ مودی کے مطابق، حکومت نے حال ہی میں ان کوریڈورز کی توسیع کے لیے دو لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔
شمسی پینل کی تیاری میں نمایاں اضافہ
وزیراعظم مودی نے ہندوستان میں شمسی توانائی کے آلات کی تیاری میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ملک کی سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ صلاحیت دو گیگاواٹ سے بڑھ کر 200 گیگاواٹ سے زیادہ ہو گئی ہے، جب کہ سولر سیل کی تیاری کی صلاحیت 40 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 15 لاکھ کروڑ روپے، یعنی تقریباً 164 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، 2024 کے رِی اِنویسٹ سمٹ کے بعد صرف دو برسوں میں تقریباً چھ لاکھ کروڑ روپے، یعنی 63 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ مودی نے اندازہ ظاہر کیا کہ اس دہائی کے اختتام تک قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 20 لاکھ کروڑ روپے، یعنی تقریباً 220 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ سمٹ انٹرنیشنل سولر الائنس کی نویں اسمبلی اور چوتھی انٹرنیشنل گرین ہائیڈروجن کانفرنس کے ساتھ منعقد ہوئی۔ وزیر اعظم نے ترقی پذیر ممالک میں شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی اور مالی وسائل کی فراہمی کے لیے 20 کروڑ امریکی ڈالر کے ’افریقہ سولر فیسلٹی‘ منصوبے کی ہندوستانی تجویز کا بھی اعادہ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


