Bharat Express DD Free Dish

Global Economy

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس جیسی میموری چپ بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی سپلائی معاہدے کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے کے مقابلے میں سیمی کنڈکٹر صنعت کو زیادہ استحکام فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ان خدمات کے عوض فیس لی جائے گی جو ایران کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔ ان میں جہازوں کی نیویگیشن، ماحولیاتی تحفظ، انشورنس اور سکیورٹی جیسی خدمات شامل ہیں۔

یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں گزشتہ جون امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے امریکی وفد کے ہمراہ بھارت کے مرکزی وزیرتجارت و صنعت پیوش گوئل سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منگل کے روز بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں اوپیک کی خام تیل پیداوار بھی 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کم ہو کر 20.04 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔

کمپنی کا 10 فیصد ورک فورس کم کرنے کا فیصلہ، AI میں بھاری سرمایہ کاری اصل وجہ قرار۔ باضابطہ طور پر 8 ہزار ملازمین کی برطرفی کی بات کی گئی ہے، لیکن کمپنی نے مزید 6 ہزار خالی آسامیوں کو بھی ختم کر دیا ہے، جن پر مستقبل میں بھرتی ہونی تھی۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی تجارت، مہنگائی اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔ اس تناظر میں عالمی رہنماؤں کی سفارتی سرگرمیاں اس بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

امریکی فیڈ نے شرحِ سود میں کمی کر دی ہے، جس سے لیکویڈیٹی میں اضافہ، قرض لینے کی لاگت میں کمی، سرمایہ کاری اور کھپت میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں مضبوطی، ابھرتی ہوئی معیشتوں کو سہارا اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

تجارتی معاہدے کے بعد سوئس کمپنیاں بھارتی منڈی میں تیزی سے داخل ہوں گی، 15 برسوں میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 10 لاکھ روزگار کا ہدف۔

ژاں کلود تریشے کے مطابق امریکی محصولات کے اثرات سہنے کی صلاحیت بھارت میں موجود، مگر 8 فیصد ترقی اور 2047 کے اہداف کے لیے ساختی اصلاحات بھی ضروری ہے۔

عالمی محصولات اور بھارتی معیشت کا استحکام، امریکی ریسیپروکل ٹیرف سے بھارتی برآمدات کو شدید دھچکا، مگر گھریلو کھپت اور حکومتی اخراجات معیشت کو سہارا دے رہے ہیں