Bharat Express DD Free Dish

energy transition

رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک پٹرول میں ایتھانول کی ملاوٹ بڑھا کر خام تیل پر انحصار کم کرنے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور توانائی کی سلامتی کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت بھی ای-20 کے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد 2030 تک ای-30 کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جبکہ متعدد دیگر ممالک بھی آنے والے برسوں میں اپنے ایتھانول بلینڈنگ پروگرام کو مزید وسعت دینے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

اڈانی سولر نے ووڈ میکنزی کی ’’گلوبل سولر فوٹو وولٹائک ماڈیول مینوفیکچرر رینکنگ 2026‘‘ میں دنیا بھر میں چھٹا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ اڈانی سولر عالمی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہونے والی واحد ہندوستانی کمپنی بن گئی ہے۔

وزیراعظم نے گجرات، تمل ناڈو، مہاراشٹر اور راجستھان جیسی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گجرات کے علاقوں کَچھ، پٹن اور بناس کانٹھا کا ذکر کیا، جہاں کبھی بنجر زمینیں تھیں، مگر آج وہاں بڑے بڑے قابلِ تجدید توانائی پارکس قائم ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں اور نئی مہارتیں بھی فروغ پا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پمپڈ ہائیڈرو توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں بھی بڑا اضافہ متوقع ہے۔ اس کی صلاحیت 2025 میں 7 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2033 تک 107 گیگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

گرین ہائیڈروجن بھی اب آہستہ آہستہ مرکزی دھارے میں شامل ہو رہی ہے۔ جون 2025 میں اڈانی نیو انڈسٹریز لمیٹڈ (ANIL) نے گجرات کے کَچھ میں بھارت کا پہلا آف گرڈ 5 میگاواٹ گرین ہائیڈروجن پائلٹ پلانٹ شروع کیا۔ یہ منصوبہ صاف توانائی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

ریکارڈ سطح کی سرگرمی، مگر نئے حکومتی ضوابط سے آئندہ برسوں میں گرین اوپن ایکسیس منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ۔ سال 2024 میں بھارت نے کلین پاور آکشنز میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا، جہاں 59 گیگاواٹ (AC) صلاحیت کے منصوبے الاٹ کیے گئے — جو پچھلے سال کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے۔

بھارت اب افریقی ممالک اور جنوبی ایشیائی پڑوسیوں میں توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ’نیبرہڈ فرسٹ‘ اور ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسیوں کے تحت بھارت توانائی، بنیادی ڈھانچے اور تجارت کے ذریعے خطے میں اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

حکومت کا یہ فیصلہ کسانوں اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کے لیے مفید ہے۔ جہاں پی ایم دھن-دانیا یوجنا دیہی معیشت کو مستحکم کرے گی، وہیں گرین انرجی میں سرمایہ کاری سے بھارت کو توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

ہندوستان کی یہ پیش رفت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ جیسے جیسے دنیا ماحولیاتی بحران کے حل کی تلاش میں ہے، ہندوستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا کے لیے بھی راہ دکھانے والا ملک بن چکا ہے۔