Green Energy Corridor Phase-III: وزیراعظم کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے گرین انرجی کوریڈور فیز-III اسکیم کو دی منظوری
اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اس میں 1,36,378 کروڑ روپے گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کے لیے اور 50,000 کروڑ روپے 50 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
GOBARdhan Scheme: وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے 23,731 کروڑ روپے کی ’گوبردھن‘ اسکیم کو دی منظوری
یہ اسکیم مالی سال 2027 سے 2036 تک نافذ رہے گی۔ اس کے تحت کمپریسڈ بائیو گیس کی پیداوار کو تقریباً دس گنا بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور کسانوں کو زرعی باقیات، گوبر اور نامیاتی فضلے سے اضافی آمدنی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
PM Surya Ghar Yojana: پی ایم سوریہ گھر یوجنا سے 50 لاکھ سے زائد خاندان مستفید، 19 لاکھ گھروں کا بجلی بل ہوا صفر: مرکز
دو برس میں دنیا کے سب سے بڑے گھریلو روف ٹاپ سولر پروگرام کی بڑی کامیابی، 28 ہزار کروڑ روپے سے زائد سبسڈی جاری، 12 لاکھ خاندانوں نے اضافی بجلی فروخت کر کے آمدنی بھی حاصل کی۔
India’s Renewable Energy: ونڈ انرجی کی تنصیب کے معاملے میں دنیا میں چوتھے نمبر پر بھارت، نصب شدہ صلاحیت 57 ہزار 443 میگاواٹ تک پہنچی
گلوبل ونڈ انرجی کونسل (GWEC) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک ونڈ انرجی کی تنصیب کے معاملے میں بھارت دنیا بھر میں چوتھے مقام پر تھا۔ حکومت کے مطابق ملک میں قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر ونڈ انرجی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور سب اسٹیشن تیار کر رہی ہے۔
PM Invited Australian Business Leaders: وزیراعظم نریندر مودی نے آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو دی بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت، میلبورن میں بھارت-آسٹریلیا سی ای او فورم سے خطاب
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اے آئی مشن، کوانٹم مشن اور سیمی کنڈکٹر پروگرام کے لیے 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبوں میں عالمی سطح کے حل تیار کر سکتے ہیں۔
Japan PM’s visit to India: وزیراعظم مودی کے جاپان دورے کے بعد وزیراعظم سنائے تاکائچی کریں گی بھارت کا دورہ، اقتصادی تعلقات کو نئی رفتار ملنے کی توقع
یہ بھارت کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اگست 2025 میں ٹوکیو کا دورہ کیا تھا، جہاں 15واں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ موجودہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
Ethanol Blending Programme: ایتھنول ملا پٹرول پروگرام سائنسی بنیادوں پر مبنی، سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں: وزارت پیٹرولیم
سوشل میڈیا پر گمراہ کن دعووں کی تردید۔ حکومت کا ایتھنول بلینڈنگ پروگرام کی مسلسل نگرانی کا دعویٰ۔ انجن خراب ہونے، چیونٹیوں کی موجودگی اور انشورنس سے متعلق حکومت نے افواہوں کی تردید کی۔
Tata Motors EVs Demand: ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں تیزی، ٹاٹا موٹرز کو 3,400 سے زائد الیکٹرک کمرشیل گاڑیوں کے آرڈر موصول
ٹاٹا موٹرز نے کہا کہ یہ آرڈر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صارفین کا الیکٹرک کمرشیل گاڑیوں پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے اور مختلف صنعتیں اب آزمائشی منصوبوں سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر ان گاڑیوں کو اپنے روزمرہ کے کاموں میں شامل کر رہی ہیں۔
PM Modi Meets Iceland PM Kristrun Frostadottir: اوسلو میں وزیر اعظم مودی اور آئس لینڈ کی وزیر اعظم کے درمیان اہم ملاقات، بھارت-نارڈک تعاون پر تبادلہ خیال
وزیر اعظم نریندر مودی نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں آئس لینڈ کی وزیر اعظم کرسٹرون فراسٹاڈوٹیر کے ساتھ ایک اہم دو طرفہ ملاقات کی، جس میں بھارت اور نارڈک ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، گرین انرجی، تجارت، ٹیکنالوجی اور علاقائی تعاون جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
India-Netherlands Ties: بھارت-نیدرلینڈس کے درمیان ’’گرین اینڈ ڈیجیٹل سی کوریڈور‘‘ وزیراعظم مودی کے دورۂ نیدرلینڈس میں بحری، تجارتی اور ڈیجیٹل تعاون بڑھانے پر اتفاق
ہندوستان اور نیدرلینڈس نے گجرات کے لوتهل میں قائم ہونے والے نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس (NMHC) کے فروغ کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ایمسٹرڈم کے نیشنل میری ٹائم میوزیم اور ہندوستانی وزارتِ بندرگاہ و جہازرانی کے درمیان طے پایا۔





