Adani Group Building India’s Clean Energy: اڈانی گروپ بھارت کے کلین انرجی اور ڈیٹا سینٹر مستقبل کی تعمیر میں مصروف: گوتم اڈانی
گوتم اڈانی نے کہا، “گوگل کے اشتراک سے ہم وشاکھاپٹنم میں ملک کا سب سے بڑا گیگاواٹ اسکیل ڈیٹا سینٹر کیمپس تیار کر رہے ہیں۔ یہ بھارتی سرزمین پر خودمختار کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔
India’s Renewable Energy: ’من کی بات‘ پروگرام سے وزیراعظم مودی کا خطاب، کہا-’’قابل تجدید توانائی مستقبل کی طاقت‘‘
وزیراعظم نے گجرات، تمل ناڈو، مہاراشٹر اور راجستھان جیسی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گجرات کے علاقوں کَچھ، پٹن اور بناس کانٹھا کا ذکر کیا، جہاں کبھی بنجر زمینیں تھیں، مگر آج وہاں بڑے بڑے قابلِ تجدید توانائی پارکس قائم ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں اور نئی مہارتیں بھی فروغ پا رہی ہیں۔
India’s Energy Storage: بھارت کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 2033 تک کئی گنا اضافہ متوقع، تیزی سے بڑھ رہے ہیں بیٹری اسٹوریج منصوبے
رپورٹ کے مطابق پمپڈ ہائیڈرو توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں بھی بڑا اضافہ متوقع ہے۔ اس کی صلاحیت 2025 میں 7 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2033 تک 107 گیگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
India’s Economic Growth: کینیڈا نے 2.6 بلین ڈالر کے یورینیم کے معاہدے کے ساتھ بھارت کی اقتصادی ترقی پر لگایا بڑا داؤ، وزیراعظم مودی اور مارک کارنی کی ملاقات کے بعد اہم پیش رفت
مرکزی مذاکرات کاروں کی ملاقات ہو چکی ہے اور ابتدائی شرائط پر دستخط بھی کیے جا چکے ہیں۔ کینیڈا کی حکومت کا ہدف ہے کہ سی ای پی اے کے ذریعے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو دگنا سے زائد بڑھا کر 70 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔ ’اسٹریٹجک انرجی پارٹنرشپ‘ کے تحت 2027 سے 2035 تک یورینیم کی فراہمی بھی کی جائے گی۔
Renewable energy investments in India rise: بھارت میں قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری میں 45 فیصد اضافہ، اگست میں 1.23 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، شمسی اور ہوائی توانائی کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری
رپورٹ کے مطابق جنوری سے جولائی 2025 کے درمیان بھارت میں 21,151 میگاواٹ شمسی اور 3,976 میگاواٹ ہوائی توانائی کی پیداواری صلاحیت شامل کی گئی، جس سے مجموعی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت بڑھ کر تقریباً 237.5 گیگاواٹ ہو گئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ اضافہ نمایاں ہے، جب 13,889 میگاواٹ شمسی اور 2,339 میگاواٹ ہوائی توانائی شامل کی گئی تھی۔
PM lauds establishment of green hydrogen plant: وزیراعظم مودی نے ’میک ان انڈیا‘ گرین ہائیڈروجن پلانٹ کو قابل ستائش قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے نیٹ زیرو وژن کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک بڑی پیش رفت
یہ گرین ہائیڈروجن پلانٹ خود کفالت، پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے اور بھارت کی توانائی کے مستقبل کی ایک جھلک بھی ہے۔
India’s energy efficiency improved faster: بھارت کی توانائی کی کارکردگی 2000 سے 2023 کے درمیان 1.9 فیصد بہتر ہوئی، عالمی اوسط سے آگے: آر بی آئی
اسٹڈی میں پتا چلا کہ اگرچہ ملک نے 2012 سے 2022 کے درمیان 706 ملین ٹن کاربن اخراج میں اضافہ کیا، لیکن اس کی بنیادی وجہ معاشی ترقی تھی، جس نے 1000 ملین ٹن سے زائد کاربن کا حصہ ڈالا۔
ہندوستان کی صاف توانائی کی منتقلی کا ایک قیمتی لمحہ ہے یہ بجٹ: ماہرین
صنعت کے ماہرین نے ہفتہ کو مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ پیش کردہ بجٹ میں جوہری مشن، اہم معدنیات اور قابل تجدید آلات کے لئے مراعات جیسے صاف توانائی کو فروغ دینے کے اقدامات کی ستائش کی۔
Resolution for social changes:معاشرتی تبدیلی کا عزم
تین بھارتی کواڈ وظیفہ یافتگان اپنی اسٹیم تعلیم کو معاشرےمیں مثبت بدلاؤ لانے کے لیےاستعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
To join or not?: شامل ہونا ہے یا نہیں؟ بھارت نے ابھی تک آئی پی ای ایف تجارتی ستون پر حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے
بھارت نے گزشتہ سال ستمبر میں آئی پی ای ایف کے تجارتی ستون سے متعلق مذاکرات سے دستبردار ہو گیا تھا کیونکہ یہ واضح نہیں تھا کہ بھارت سمیت رکن ممالک کو مذاکرات سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔





