نئی دہلی: حال ہی میں کینیڈا اور بھارت کے درمیان طے پانے والے 2.6 ارب ڈالر کے یورینیم سپلائی معاہدے کو ہند-بحرالکاہل خطے میں اوٹاوا کی اقتصادی حکمت عملی کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ’ون ورلڈ آؤٹ لک‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کی تیز رفتار صنعتی ترقی سے فائدہ اٹھانے اور امریکہ پر بطور واحد منڈی انحصار کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ نئی دہلی میں دونوں ممالک نے ’اسٹریٹجک انرجی پارٹنرشپ‘ کا اعلان کیا، جس کے تحت کینیڈا کی معروف کمپنی کیماکو سال 2027 سے 2035 کے درمیان بھارت کے سویلین نیوکلیئر ری ایکٹروں کے لیے تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ یورینیم فراہم کرے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کینیڈا کے اعلیٰ معیار کے قدرتی وسائل کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی توانائی منڈی، یعنی بھارت، سے جوڑتا ہے اور اوٹاوا کے بھارت سے متعلق روایتی نقطۂ نظر میں نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔
توانائی تعاون کا وسیع دائرہ
معاہدہ صرف یورینیم تک محدود نہیں بلکہ ایل این جی، ایل پی جی، شمسی توانائی اور ہائیڈروجن جیسے شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک توانائی کو محض تجارتی لین دین کے بجائے وسیع معاشی شراکت داری کی بنیاد کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا اب بھارت کو ایک وسیع آبادی، بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات، صنعتی توسیع اور جغرافیائی سیاسی اہمیت رکھنے والی بڑی معیشت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ بھارت کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی بڑی معیشتوں میں شمار کیا گیا ہے۔
سی ای پی اے سے دوطرفہ تجارت میں اضافہ متوقع
ماہرین کے مطابق تعلقات میں حقیقی پیش رفت اُس وقت ہوگی جب جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) کو حتمی شکل دی جائے گی۔ مرکزی مذاکرات کاروں کی ملاقات ہو چکی ہے اور ابتدائی شرائط پر دستخط بھی کیے جا چکے ہیں۔ کینیڈا کی حکومت کا ہدف ہے کہ سی ای پی اے کے ذریعے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو دگنا سے زائد بڑھا کر 70 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔
سفارتی تعلقات کی بحالی کی کوششیں
ادھر بھارتی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کے درمیان دونوں ممالک میں سفارتی عملے کی تعداد کو سابقہ سطح پر بحال کرنے پر تبادلۂ خیال ہوا ہے۔ مارک کارنی کے منصب سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے متوازن اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں نئی تقرریاں اور اعلیٰ سطحی رابطے شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

