Bharat Express DD Free Dish

economic growth

پی ایم مودی کی 7 اپیلوں اور اقتصادی خود کفالت کے لیے شہریوں کی عادات میں تبدیلی سے متعلق 7 اقدامات کا تجزیہ۔ جانئے ایندھن، سونا، بیرونِ ملک سفر اور خوردنی تیل کی کھپت کم کرکے غیر ملکی زرمبادلہ کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

وزیراعظم مودی نے SIAM سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی موبیلٹی صنعت کو اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کے لیے تیار کرنے میں فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ جدت، باہمی تعاون اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے آٹو سیکٹر ’وکست بھارت‘ کے ہدف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

گلوبل لیڈرز فورم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی ترقی، معیشت اور مینوفیکچرنگ کے مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اصلاحات کسی مجبوری کے تحت نہیں کی جا رہیں بلکہ یہ حکومت کا عزم اور پختہ ارادہ ہے۔

بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح کو لے کر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ نئے تجزیے میں نہ صرف GDP گروتھ کی پیمائش کے طریقوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں بلکہ ’Synthetic India‘ ماڈل کے ذریعے ملک کی اقتصادی ترقی کا اندازہ لگانے کے طریقہ کار پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔

برطانیہ، نیوزی لینڈ، ای ایف ٹی اے، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، ماریشس اور عمان سمیت کئی ممالک کے ساتھ معاہدے۔ زرعی، مینوفیکچرنگ اور سیاحت کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی امید۔ کسانوں، دھات تیار کرنے والوں اور صنعتوں کو عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی۔

مرکزی حکومت ہر پارک کے لیے 1000 کروڑ روپے تک کی گرانٹ دے گی، ریاستی حکومتوں کو کم از کم 500 کروڑ روپے کا تعاون کرنا ہوگا۔ 2026-27 سے 2030-31 تک جاری رہے گی اسکیم۔ یہ اسکیم ماحول دوست ماحولیاتی نظام قائم کرکے ہندوستانی کیمیکل صنعت کی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔ اس نظام میں مشترکہ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ، ٹریٹمنٹ، اسٹوریج اور ڈسپوزل کی سہولیات اور خطرناک فضلے کے انتظام کے لیے بنیادی ڈھانچہ شامل ہوگا۔

وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور دیگر اہم شعبوں میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ نیوزی لینڈ کی معروف کاروباری اور کھیلوں کی شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایمیزون کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس نئے اعلان کے بعد 2026 سے 2030 کے درمیان بھارت میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کے لیے کمپنی کی مجموعی منصوبہ بند سرمایہ کاری 21 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جائے گی، جو بھارت میں اے آئی اور کلاؤڈ کے شعبے میں ہونے والی سب سے بڑی عالمی سرمایہ کاریوں میں شمار کی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں 20 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ممبئی، نوی ممبئی، احمد آباد، لکھنؤ، جے پور اور گوہاٹی میں ہوٹل، تجارتی مراکز، تفریحی اور کاروباری سہولیات پر مشتمل جدید شہری مراکزبھی  قائم کیے جائیں گے

 کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈی جیسی نے کہا کہ 2026 سے 2030 کے درمیان سرمایہ کاری کا حجم 35 ارب سے بڑھا کر 48 ارب ڈالر کیا جائے گا۔ کلاؤڈ، مصنوعی ذہانت اور روزگار کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔