Bharat Express DD Free Dish

Bilateral Ties

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات میں کرکٹ ایک سفارتی زبان کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک اولمپک اور دولتِ مشترکہ کھیلوں جیسے بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کریں گے، جس سے نہ صرف کھیلوں کے میدان میں تعاون بڑھے گا بلکہ اسپورٹس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

سرکاری تقریب سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت-آسٹریلیا سی ای او فورم میں شرکت کی، جہاں ان کے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البانیز نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ تصویر بھی بنوائی۔ وزیراعظم مودی نے فورم میں دونوں ممالک کے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کیا۔

وزیراعظم مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ یہ دورہ بھارت-آسٹریلیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، نقل و حرکت، ابھرتی ہوئی اور اہم ٹیکنالوجیز، کھیل اور کھیلوں کی سائنس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ 

وزیراعظم نے انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ کی مشہور فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کا گیت انڈونیشیا میں بے حد مقبول ہے، لیکن جب بھارت اور انڈونیشیا مل کر آگے بڑھتے ہیں تو صرف ’’کچھ کچھ‘‘ نہیں بلکہ ’’بہت کچھ‘‘ ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قدیم سمندری روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر کبھی فاصلے کی علامت نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دونوں قوموں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر نے ہمیشہ ہمیں قریب لانے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشترکہ مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔‘‘ 

وزیر اعظم مودی کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لینے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 130 سے زیادہ بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

انڈونیشیا کے دورے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان تقریباً دو ہزار برس پرانے تہذیبی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ 1991 میں بھارت کی ’’لک ایسٹ پالیسی‘‘ اختیار کیے جانے کے بعد سیاسی، دفاعی، سلامتی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل وسعت آئی ہے۔

سنائے تاکائیچی نے کہا کہ وہ بھارت کی ثقافت اور وزیراعظم مودی کی گرمجوش مہمان نوازی کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ قائم ہونے والے باہمی اعتماد کی بنیاد پر دونوں ممالک آئندہ سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہند-جاپان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت کی تیل کمپنیوں، انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ، جاپان کی جاپان آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سکیورٹی اور جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے گرین امونیا، ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور جوہری توانائی سمیت صاف توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔