نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز گجرات کے کانڈلہ میں دین دیال پورٹ پر بھارت کے پہلے ’میک ان انڈیا‘ گرین ہائیڈروجن پلانٹ کے افتتاح کو قابل ستائش قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے نیٹ زیرو وژن کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔ گرین انرجی کی جانب ہندوستان کے تاریخی سفر میں یہ ایک سنگ میل ہے۔ دین دیال پورٹ اتھارٹی (ڈی پی اے) نے جمعرات کے روز کانڈلہ، گجرات میں ملک کے پہلے ’میک ان انڈیا‘ 1 میگاواٹ گرین ہائیڈروجن پلانٹ کا باقاعدہ آغاز کیا۔
یہ ایک قابل تعریف کوشش ہے
وزیراعظم مودی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ایک قابل تعریف کوشش ہے، جو پائیداری کو فروغ دیتی ہے اور ہمارے نیٹ زیرو وژن کو توانائی فراہم کرتی ہے۔
This is a commendable effort, championing sustainability and powering our Net-Zero vision. https://t.co/lmT17VOSBo
— Narendra Modi (@narendramodi) August 3, 2025
یہ پلانٹ مرکزی وزیر برائے بندرگاہ، جہازرانی و آبی گزرگاہ سربانند سونووال نے افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت شانتنو ٹھاکر، سکریٹری ٹی کے رامچندرن، دین دیال پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین سشیل کمار سنگھ اور ایل اینڈ ٹی و دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ڈی پی اے نے اسے وزیراعظم مودی کے نیٹ زیرو وژن کی جانب ایک زبردست قدم قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے رکھی تھی گرین ہائیڈروجن پلانٹ کی بنیاد
محض چار ماہ قبل، اپنے کَچھ کے دورے کے دوران وزیراعظم مودی نے دین دیال پورٹ پر 10 میگاواٹ کے گرین ہائیڈروجن پلانٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ اب 1 میگاواٹ ماڈیول کی کمیشننگ کے ساتھ وہ وژن زمین پر حقیقت بننے لگا ہے۔ ڈی پی اے کے چیئرمین سشیل کمار سنگھ نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف دین دیال پورٹ یا گجرات بلکہ پورے بھارت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بھارت نے نومبر 2021 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی کانفرنس (COP 26) کے دوران 2070 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ گرین ہائیڈروجن پلانٹ خود کفالت، پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے اور بھارت کی توانائی کے مستقبل کی ایک جھلک بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


